سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي الْعَدُوِّ يُؤْتَى عَلَى غِرَّةٍ وَيُتَشَبَّهُ بِهِمْ باب: دشمن کے پاس دھوکہ سے پہنچنا اور یہ ظاہر کرنا کہ وہ انہی میں سے ہے اور اسے قتل کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 2769
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُزَابَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ الْهَمْدَانِيُّ ، عَنْ السُّدِّيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْإِيمَانُ قَيَّدَ الْفَتْكَ لَا يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایمان نے کسی کو دھوکہ سے قتل کرنے کو روک دیا ، کوئی مومن دھوکہ سے قتل نہیں کرتا ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ غفلت میں پڑے ہوئے شخص کو قتل کرنا درست نہیں اسی لئے کہا جاتا ہے کہ کعب بن اشرف کے قتل کا واقعہ اس حدیث میں فتک (غفلت میں قتل) کی ممانعت سے قبل کا ہے یا کعب کا قتل اس کی عہد شکنی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلسل ہجو کرنے اور اس پر دوسروں کو ابھارنے کی وجہ سے تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دشمن کے پاس دھوکہ سے پہنچنا اور یہ ظاہر کرنا کہ وہ انہی میں سے ہے اور اسے قتل کرنا جائز ہے۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ایمان نے کسی کو دھوکہ سے قتل کرنے کو روک دیا، کوئی مومن دھوکہ سے قتل نہیں کرتا ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2769]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ایمان نے کسی کو دھوکہ سے قتل کرنے کو روک دیا، کوئی مومن دھوکہ سے قتل نہیں کرتا ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2769]
فوائد ومسائل:
1۔
یعنی کسی غیرت وحمیت کے معاملے میں مسلمان کسی مسلمان کو دھوکے اور غفلت سے قتل نہ کرے۔
2۔
ایسا شخص جس سے کوئی عہد وپیمان ہو۔
اس کو بھی قتل کرنا ناجائز ہے۔
مگر جن دشمنوں کے ساتھ اعلان جنگ ہو اور دونوں فریق جنگ کی کیفیت میں ہوں۔
اس میں یہ عمل جائز ہے۔
1۔
یعنی کسی غیرت وحمیت کے معاملے میں مسلمان کسی مسلمان کو دھوکے اور غفلت سے قتل نہ کرے۔
2۔
ایسا شخص جس سے کوئی عہد وپیمان ہو۔
اس کو بھی قتل کرنا ناجائز ہے۔
مگر جن دشمنوں کے ساتھ اعلان جنگ ہو اور دونوں فریق جنگ کی کیفیت میں ہوں۔
اس میں یہ عمل جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2769 سے ماخوذ ہے۔