سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي أَمَانِ الْمَرْأَةِ باب: مسلمان عورت کافر کو امان دیدے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2764
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : إِنْ كَانَتِ الْمَرْأَةُ لَتُجِيرُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ فَيَجُوزُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` اگر کوئی عورت کسی کافر کو مسلمانوں سے پناہ دے دیا کرتی تو وہ پناہ درست ہوتی تھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مسلمان عورت کافر کو امان دیدے اس کے حکم کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اگر کوئی عورت کسی کافر کو مسلمانوں سے پناہ دے دیا کرتی تو وہ پناہ درست ہوتی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2764]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اگر کوئی عورت کسی کافر کو مسلمانوں سے پناہ دے دیا کرتی تو وہ پناہ درست ہوتی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2764]
فوائد ومسائل:
مسلمانوں میں سے کوئی ادنیٰ آدمی بھی اگر کسی کافر کو امان دے دے توسب پرلازم ہے کہ اس کی امان کا لحاظ کریں۔
مسلمانوں میں سے کوئی ادنیٰ آدمی بھی اگر کسی کافر کو امان دے دے توسب پرلازم ہے کہ اس کی امان کا لحاظ کریں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2764 سے ماخوذ ہے۔