سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي الإِمَامِ يَسْتَأْثِرُ بِشَىْءٍ مِنَ الْفَىْءِ لِنَفْسِهِ باب: مال فے میں سے امام کا اپنے لیے کچھ رکھ لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2755
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ الْأَسْوَدَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَعِيرٍ مِنَ الْمَغْنَمِ فَلَمَّا سَلَّمَ أَخَذَ وَبَرَةً مِنْ جَنْبِ الْبَعِيرِ ، ثُمَّ قَالَ : " وَلَا يَحِلُّ لِي مِنْ غَنَائِمِكُمْ مِثْلُ هَذَا إِلَّا الْخُمُسُ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ فِيكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مال غنیمت کے ایک اونٹ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھائی ، پھر جب سلام پھیرا تو اونٹ کے پہلو سے ایک بال لیا ، اور فرمایا : ” تمہاری غنیمتوں میں سے میرے لیے اتنا بھی حلال نہیں سوائے خمس کے ، اور خمس بھی تمہیں لوٹا دیا جاتا ہے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام غنیمت کے مال میں سے سوائے خمس کے کچھ نہیں لے گا، اور خمس بھی جو لے گا وہ تنہا اس کا نہیں ہو گا بلکہ وہ اسے مسلمانوں ہی میں اس تفصیل کے مطابق خرچ کرے گا جسے اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ «واعلموا أنما غنمتم من شيئ فإن لله خمسه وللرسول ولذي القربى ولليتامى والمساكين» میں بیان کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مال فے میں سے امام کا اپنے لیے کچھ رکھ لینے کا بیان۔`
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مال غنیمت کے ایک اونٹ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھائی، پھر جب سلام پھیرا تو اونٹ کے پہلو سے ایک بال لیا، اور فرمایا: ” تمہاری غنیمتوں میں سے میرے لیے اتنا بھی حلال نہیں سوائے خمس کے، اور خمس بھی تمہیں لوٹا دیا جاتا ہے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2755]
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مال غنیمت کے ایک اونٹ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھائی، پھر جب سلام پھیرا تو اونٹ کے پہلو سے ایک بال لیا، اور فرمایا: ” تمہاری غنیمتوں میں سے میرے لیے اتنا بھی حلال نہیں سوائے خمس کے، اور خمس بھی تمہیں لوٹا دیا جاتا ہے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2755]
فوائد ومسائل:
رسول اللہﷺ غنیمت میں سے صرف خمس لیا کرتے تھے۔
اس طرح امام المسلمین بھی اس مسئلے میں نبی کریمﷺ کی اقتداء کرے۔
اور کوئی خاص چیز اپنے لئے خاص نہ کرے۔
الا یہ کہ کوئی خاص مصلحت ہو۔
(نیل الأوطار، الجهاد، باب أن أربعة أخماس الغنیمة للغانمین۔
۔
۔
296/7۔
و باب بیان الصفی۔
۔
۔
۔
316/7)
رسول اللہﷺ غنیمت میں سے صرف خمس لیا کرتے تھے۔
اس طرح امام المسلمین بھی اس مسئلے میں نبی کریمﷺ کی اقتداء کرے۔
اور کوئی خاص چیز اپنے لئے خاص نہ کرے۔
الا یہ کہ کوئی خاص مصلحت ہو۔
(نیل الأوطار، الجهاد، باب أن أربعة أخماس الغنیمة للغانمین۔
۔
۔
296/7۔
و باب بیان الصفی۔
۔
۔
۔
316/7)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2755 سے ماخوذ ہے۔