سنن ابي داود
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے مسائل
باب فِي الْمَرْأَةِ تُسْتَحَاضُ وَمَنْ قَالَ تَدَعُ الصَّلاَةَ فِي عِدَّةِ الأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ باب: عورت کے مستحاضہ ہونے کا بیان اور ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ مستحاضہ اپنے حیض کے ایام کے بقدر نماز چھوڑ دے۔
حدیث نمبر: 275
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَخْبَرَهُ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، قَالَ : فَإِذَا خَلَّفَتْ ذَلِكَ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ ، فَلْتَغْتَسِلْ ، بِمَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ایک عورت کو ( استحاضہ کا ) خون آتا تھا ، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی ، اس میں ہے کہ : ” پھر جب یہ ایام گزر جائیں اور نماز کا وقت آ جائے تو غسل کرے .... “ الخ ۔