حدیث نمبر: 2746
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي . ح وحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُجَيْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ مِنَ السَّرَايَا لِأَنْفُسِهِمْ خَاصَّةَ النَّفَلِ سِوَى قَسْمِ عَامَّةِ الْجَيْشِ ، وَالْخُمُسُ فِي ذَلِكَ وَاجِبٌ كُلُّهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن سریوں کو بھیجتے انہیں عام لشکر کی تقسیم کے علاوہ بطور نفل خاص طور سے کچھ دیتے تھے اور خمس ان تمام میں واجب ہوتا ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی پہلے پورے مال میں سے خمس نکالتے پھر انعام کچھ دینا ہوتا دیتے پھر باقی عام لشکر میں برابر تقسیم کرتے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2746
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (3135) صحيح مسلم (1750)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/فرض الخمس 15 (3135)، صحیح مسلم/الجھاد 12 (1750)، (تحفة الأشراف: 6880)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/140) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3135 | صحيح مسلم: 1750

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3135 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3135. حضرت ابن عمر ؓ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کوئی چھوٹا لشکر بھیجتے تو بعض خاص آدمیوں کو عام لشکریوں کے حصے سے زیادہ حصہ دیاکرتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3135]
حدیث حاشیہ:

شرعی اصطلاح میں "نفل" اس عطیے کو کہتے ہیں جو امام ایسے شخص کو دیتا ہے جس نے جنگ میں کوئی کارنامہ دکھایا ہو۔

پہلی حدیث سے معلوم ہوا کہ غنیمت کے مال سے حصے کے علاوہ نفل دینا جائز ہے کیونکہ اس میں صراحت ہے کہ مجاہدین کو مال غنیمت کے حصے کے علاوہ مزید ایک ایک اونٹ بطور انعام دیا گیا۔
رسول اللہ ﷺ نے اس تقسیم پر کوئی انکار نہیں فرمایا۔

دوسری حدیث کے مطابق کچھ مجاہدین کو ان کی اچھی کار کردگی کی بنا پر دوسروں سے زیادہ حصہ بھی دیا جا سکتا ہے۔
البتہ یہ اضافی حصہ خمس سے دیا جائے گا۔
(عمدة القاري: 404/10)

امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ امام مال خمس کو اپنی صوابدید کے مطابق تقسیم کرنے کا مجاز ہے۔
وہ کسی کو نمایاں خدمات کی وجہ سے زیادہ بھی دے سکتا ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3135 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1750 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن دستوں کو بھیجتے، ان کو خصوصی طور پر انہیں کے لیے عطیہ دیتے، جو عام لشکر کے حصہ سے زائد ہوتا، لیکن خمس تمام مالوں میں واجب تھا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4565]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، نفل غنیمت سے پانچواں حصہ نکالنے کے بعد دیا جاتا ہے، پہلے تمام غنیمت سے پانچواں حصہ الگ کر لیا جاتا ہے، پھر خمس دیا جاتا ہے، وہ اصل غنیمت کے مجاہدوں کے حصہ سے ہو یا خمس میں سے ہو۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1750 سے ماخوذ ہے۔