سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي نَفْلِ السَّرِيَّةِ تَخْرُجُ مِنَ الْعَسْكَرِ باب: لشکر کے کسی ٹکڑے کو انعام میں کچھ زیادہ دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَةُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ الْكِلَابِيَّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى نَجْدٍ ، فَخَرَجْتُ مَعَهَا فَأَصَبْنَا نَعَمًا كَثِيرًا فَنَفَّلَنَا أَمِيرُنَا بَعِيرًا بَعِيرًا لِكُلِّ إِنْسَانٍ ، ثُمَّ قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَسَمَ بَيْنَنَا غَنِيمَتَنَا ، فَأَصَابَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا بَعْدَ الْخُمُسِ وَمَا حَاسَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي أَعْطَانَا صَاحِبُنَا وَلَا عَابَ عَلَيْهِ بَعْدَ مَا صَنَعَ ، فَكَانَ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنَّا ثَلَاثَةَ عَشَرَ بَعِيرًا بِنَفْلِهِ .
´اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ ۱؎ نجد کی جانب بھیجا ، میں بھی اس کے ساتھ نکلا ، ہمیں بہت سے اونٹ ملے ، تو ہمارے دستہ کے سردار نے ایک ایک اونٹ ہم میں سے ہر شخص کو بطور انعام دیا ، پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، آپ نے ہمارے غنیمت کے مال کو ہم میں تقسیم کیا ، تو ہر ایک کو ہم میں سے خمس کے بعد بارہ بارہ اونٹ ملے ، اور وہ اونٹ جو ہمارے سردار نے دیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حساب میں شمار نہ کیا ، اور نہ ہی آپ نے اس سردار کے عمل پر طعن کیا ، تو ہم میں سے ہر ایک کو اس کے نفل سمیت تیرہ تیرہ اونٹ ملے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نجد کی جانب ایک لشکر میں بھیجا اور اس لشکر کا ایک دستہ دشمن سے مقابلہ کے لیے بھیجا گیا، پھر لشکر کے لوگوں کو بارہ بارہ اونٹ ملے اور دستہ کے لوگوں کو ایک ایک اونٹ بطور انعام زیادہ ملا تو ان کے حصہ میں تیرہ تیرہ اونٹ آئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2741]
لشکر میں سے کوئی دستہ جب کوئی خاص کارروائی کرے۔
تو اس کی مناسبت سے اسے اضافی انعام دینا مستحب ہے۔
جب کہ عام غنیمت میں سبھی شریک ہوں گے۔
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا، تو ہمارے حصہ میں بارہ بارہ اونٹ آئے، اور ایک ایک اونٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بطور انعام دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے برد بن سنان نے نافع سے عبیداللہ کی حدیث کے ہم مثل روایت کیا ہے اور اسے ایوب نے بھی نافع سے اسی کے مثل روایت کیا، مگر اس میں یہ ہے کہ ہمیں ایک ایک اونٹ بطور نفل دئیے گئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2745]
مذکور بالا احادیث میں جمع وتطبیق یہی ہے۔
کہ امیر نے جو انعام دیا۔
رسول اللہ ﷺ نے اس کی توثیق فرمائی۔
جس کو براہ راست رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کر دیا گیا جو صحیح ہے۔