سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ يُحْذَيَانِ مِنَ الْغَنِيمَةِ باب: عورت اور غلام کو مال غنیمت سے کچھ دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَغَيْرُهُ ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَافِعُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ زِيَادٍ ، حَدَّثَنِي حَشْرَجُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ أَبِيهِ ، أَنَّهَا خَرَجَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ سَادِسَ سِتِّ نِسْوَةٍ ، فَبَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ إِلَيْنَا فَجِئْنَا فَرَأَيْنَا فِيهِ الْغَضَبَ فَقَالَ : " مَعَ مَنْ خَرَجْتُنَّ وَبِإِذْنِ مَنْ خَرَجْتُنَّ ؟ فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ خَرَجْنَا نَغْزِلُ الشَّعَرَ وَنُعِينُ بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَعَنَا دَوَاءُ الْجَرْحَى وَنُنَاوِلُ السِّهَامَ وَنَسْقِي السَّوِيقَ ، فَقَالَ : قُمْنَ . حتَّى إِذَا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ أَسْهَمَ لَنَا كَمَا أَسْهَمَ لِلرِّجَالِ قَالَ : قُلْتُ لَهَا : يَا جَدَّةُ وَمَا كَانَ ذَلِكَ قَالَتْ : تَمْرًا " .
´حشرج بن زیاد اپنی دادی ( ام زیاد اشجعیہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ` وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی جنگ میں نکلیں ، یہ چھ عورتوں میں سے چھٹی تھیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے ہمیں بلا بھیجا ، ہم آئے تو ہم نے آپ کو ناراض دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تم کس کے ساتھ نکلیں ؟ اور کس کے حکم سے نکلیں ؟ “ ہم نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم نکل کر بالوں کو بٹ رہی ہیں ، اس سے اللہ کی راہ میں مدد پہنچائیں گے ، ہمارے پاس زخمیوں کی دوا ہے ، اور ہم مجاہدین کو تیر دیں گے ، اور ستو گھول کر پلائیں گے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھا چلو “ یہاں تک کہ جب خیبر فتح ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھی ویسے ہی حصہ دیا جیسے کہ مردوں کو دیا ، حشرج بن زیاد کہتے ہیں : میں نے ان سے پوچھا : دادی ! وہ حصہ کیا تھا ؟ تو وہ کہنے لگیں : کچھ کھجوریں تھیں ۱؎ ۔