سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ يُحْذَيَانِ مِنَ الْغَنِيمَةِ باب: عورت اور غلام کو مال غنیمت سے کچھ دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ، قَالَ : كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ كَذَا وَكَذَا وَذَكَرَ أَشْيَاءَ ، وَعَنِ الْمَمْلُوكِ أَلَهُ فِي الْفَيْءِ شَيْءٌ ، وَعَنِ النِّسَاءِ هَلْ كُنَّ يَخْرُجْنَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهَلْ لَهُنَّ نَصِيبٌ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَوْلَا أَنْ يَأْتِيَ أُحْمُوقَةً مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ ، أَمَّا الْمَمْلُوكُ فَكَانَ يُحْذَى ، وَأَمَّا النِّسَاءُ فَقَدْ كُنَّ يُدَاوِينَ الْجَرْحَى وَيَسْقِينَ الْمَاءَ .
´یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ` نجدہ ۱؎ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا وہ ان سے فلاں فلاں چیزوں کے بارے میں پوچھ رہے تھے اور بہت سی چیزوں کا ذکر کیا اور غلام کے بارے میں کہ ( اگر جہاد میں جائے ) تو کیا غنیمت میں اس کو حصہ ملے گا ؟ اور کیا عورتیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں جاتی تھیں ؟ کیا انہیں حصہ ملتا تھا ؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : اگر مجھے اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ وہ احمقانہ حرکت کرے گا تو میں اس کو جواب نہ لکھتا ( پھر انہوں نے اسے لکھا : ) رہے غلام تو انہیں بطور انعام کچھ دے دیا جاتا تھا ، ( اور ان کا حصہ نہیں لگتا تھا ) اور رہیں عورتیں تو وہ زخمیوں کا علاج کرتیں اور پانی پلاتی تھیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ خوارج گمراہ لوگ ہیں، بنو ہاشم کو زکاۃ نہیں لگتی، ہاں انھیں تحفے تحائف دینے درست ہیں، پیتیم بچہ اگر بالغ ہو جائے تو اس کی یتیمی ختم ہو جاتی ہے، بچوں کوقتل کرنا حرام ہے۔ گمراہ لوگوں کے سوالات کے جوابات بھی قرآن و حدیث کے مطابق دینے چاہئیں کسی قسم کی مداہنت کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔