سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب مَنْ أَجَازَ عَلَى جَرِيحٍ مُثْخَنٍ يُنَفَّلُ مِنْ سَلَبِهِ باب: زخمی کافر کے قاتل کو اس کے سامان سے کچھ حصہ انعام میں ملے گا۔
حدیث نمبر: 2722
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : نَفَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ سَيْفَ أَبِي جَهْلٍ كَانَ قَتَلَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بدر کے دن ابوجہل کی تلوار بطور نفل دی اور انہوں نے ہی اسے قتل کیا تھا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: چونکہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہی نے ابوجہل کے سر کو اس کے جسم سے (جب اس میں جان باقی تھی) جدا کیا تھا اسی لئے اس کی تلوار آپ نے انہی کو دی، ورنہ اس کے قاتل اصلاً معاذ بن عمرو بن جموح اور معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہما ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´زخمی کافر کے قاتل کو اس کے سامان سے کچھ حصہ انعام میں ملے گا۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بدر کے دن ابوجہل کی تلوار بطور نفل دی اور انہوں نے ہی اسے قتل کیا تھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2722]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بدر کے دن ابوجہل کی تلوار بطور نفل دی اور انہوں نے ہی اسے قتل کیا تھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2722]
فوائد ومسائل:
ابو جہل کو عفراء کے بیٹوں معاذ اور معوذ اور معاذ بن عمرو بن جموح نے ذخمی کیا تھا۔
اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی گردن کاٹی تھی۔
(دیکھیے سابقہ حدیث 2680)
ابو جہل کو عفراء کے بیٹوں معاذ اور معوذ اور معاذ بن عمرو بن جموح نے ذخمی کیا تھا۔
اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی گردن کاٹی تھی۔
(دیکھیے سابقہ حدیث 2680)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2722 سے ماخوذ ہے۔