حدیث نمبر: 2720
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : سَأَلْتُ ثَوْرًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، فَحَدَّثَنِي عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی` عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2720
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (2719)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10902) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´امام کو یہ اختیار ہے کہ وہ قاتل کو مقتول کا سامان نہ دے، گھوڑا اور ہتھیار بھی مقتول کے سامان میں سے ہے۔`
اس سند سے بھی عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2720]
فوائد ومسائل:
انتظامی معاملات میں امیر مجتہد کو کسی قدرتصرف کا حق حاصل ہوتا ہے۔
اور لوگوں کومناسب نہیں کہ حکام وامراء کو ہرمعاملے میں تنقید کی سان پر چڑھائے رکھیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2720 سے ماخوذ ہے۔