سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي عُقُوبَةِ الْغَالِّ باب: مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کی سزا کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ،عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ حَرَّقُوا مَتَاعَ الْغَالِّ وَضَرَبُوهُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَزَادَ فِيهِ عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، عَنْ الْوَلِيدِ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ وَمَنَعُوهُ سَهْمَهُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وحَدَّثَنَا بِهِ الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ قَوْلَهُ : وَلَمْ يَذْكُرْ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ مَنْعَ سَهْمِهِ .
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے خیانت کرنے والے کے سامان کو جلا دیا اور اسے مارا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : علی بن بحر نے اس حدیث میں ولید سے اتنا اضافہ کیا ہے کہ اسے اس کا حصہ نہیں دیا ، لیکن میں نے یہ زیادتی علی بن بحر سے نہیں سنی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ہم سے ولید بن عتبہ اور عبدالوہاب بن نجدہ نے بھی بیان کیا ہے ان دونوں نے کہا اسے ہم سے ولید ( ولید بن مسلم ) نے بیان کیا ہے انہوں نے زہیر بن محمد سے زہیر نے عمرو بن شعیب سے موقوفاً روایت کیا ہے اور عبدالوہاب بن نجدہ حوطی نے ” حصہ سے محروم کر دینے “ کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے خیانت کرنے والے کے سامان کو جلا دیا اور اسے مارا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: علی بن بحر نے اس حدیث میں ولید سے اتنا اضافہ کیا ہے کہ اسے اس کا حصہ نہیں دیا، لیکن میں نے یہ زیادتی علی بن بحر سے نہیں سنی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہم سے ولید بن عتبہ اور عبدالوہاب بن نجدہ نے بھی بیان کیا ہے ان دونوں نے کہا اسے ہم سے ولید (ولید بن مسلم) نے بیان کیا ہے انہوں نے زہیر بن محمد سے زہیر نے عمرو بن شعیب سے موقوفاً روایت کیا ہے اور عبدالوہاب بن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2715]
اس باب میں کوئی مرفوع حدیث ثابت نہیں ہے۔
جناب سالم بن عبد اللہ بن عمر کا قول بھی سنداً ضعیف ہے، اس لئے یہ معاملہ امیر المجاہدین کی صوابدید پر موقوف ہے۔
کہ وہ غنیمت میں خیانت کرنے والے کو جسمانی سزا دے یا اس کو اس کے مال سے محروم کردے۔
یا کوئی اورسزا تجویزکرے۔
لیکن سامان جلانے سے گریز کرے۔
کیونکہ ا س کی بابت مرفوع اور موقوف کوئی بھی روایت صحیح نہیں۔