حدیث نمبر: 2715
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ،عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ حَرَّقُوا مَتَاعَ الْغَالِّ وَضَرَبُوهُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَزَادَ فِيهِ عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، عَنْ الْوَلِيدِ وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ وَمَنَعُوهُ سَهْمَهُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وحَدَّثَنَا بِهِ الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ قَوْلَهُ : وَلَمْ يَذْكُرْ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ مَنْعَ سَهْمِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے خیانت کرنے والے کے سامان کو جلا دیا اور اسے مارا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : علی بن بحر نے اس حدیث میں ولید سے اتنا اضافہ کیا ہے کہ اسے اس کا حصہ نہیں دیا ، لیکن میں نے یہ زیادتی علی بن بحر سے نہیں سنی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ہم سے ولید بن عتبہ اور عبدالوہاب بن نجدہ نے بھی بیان کیا ہے ان دونوں نے کہا اسے ہم سے ولید ( ولید بن مسلم ) نے بیان کیا ہے انہوں نے زہیر بن محمد سے زہیر نے عمرو بن شعیب سے موقوفاً روایت کیا ہے اور عبدالوہاب بن نجدہ حوطی نے ” حصہ سے محروم کر دینے “ کا ذکر نہیں کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2715
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الوليد بن مسلم: شامي وقال البخاري في زھير بن محمد :’’ روي عنه أھل الشام أحاديث مناكير ‘‘ (التاريخ الكبير 427/3), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 99
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8706، 19169) (ضعیف) » (یہ ضعیف ہونے کے ساتھ عمرو بن شعیب کا قول ہے ، جس کو اصطلاح علماء میں موقوف کہتے ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کی سزا کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے خیانت کرنے والے کے سامان کو جلا دیا اور اسے مارا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: علی بن بحر نے اس حدیث میں ولید سے اتنا اضافہ کیا ہے کہ اسے اس کا حصہ نہیں دیا، لیکن میں نے یہ زیادتی علی بن بحر سے نہیں سنی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہم سے ولید بن عتبہ اور عبدالوہاب بن نجدہ نے بھی بیان کیا ہے ان دونوں نے کہا اسے ہم سے ولید (ولید بن مسلم) نے بیان کیا ہے انہوں نے زہیر بن محمد سے زہیر نے عمرو بن شعیب سے موقوفاً روایت کیا ہے اور عبدالوہاب بن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2715]
فوائد ومسائل:
اس باب میں کوئی مرفوع حدیث ثابت نہیں ہے۔
جناب سالم بن عبد اللہ بن عمر کا قول بھی سنداً ضعیف ہے، اس لئے یہ معاملہ امیر المجاہدین کی صوابدید پر موقوف ہے۔
کہ وہ غنیمت میں خیانت کرنے والے کو جسمانی سزا دے یا اس کو اس کے مال سے محروم کردے۔
یا کوئی اورسزا تجویزکرے۔
لیکن سامان جلانے سے گریز کرے۔
کیونکہ ا س کی بابت مرفوع اور موقوف کوئی بھی روایت صحیح نہیں۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2715 سے ماخوذ ہے۔