حدیث نمبر: 2714
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى الأَنْطَاكِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق ، عَنْ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ ، وَمَعَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَغَلَّ رَجُلٌ مَتَاعًا فَأَمَرَ الْوَلِيدُ بِمَتَاعِهِ فَأُحْرِقَ وَطِيفَ بِهِ وَلَمْ يُعْطِهِ سَهْمَهُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهَذَا أَصَحُّ الْحَدِيثَيْنِ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، أن الوليد بن هشام أحرق رحل زياد بن سعد وكان قد غل وضربه .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´صالح بن محمد کہتے ہیں کہ` ہم نے ولید بن ہشام کے ساتھ غزوہ کیا اور ہمارے ساتھ سالم بن عبداللہ بن عمر اور عمر بن عبدالعزیز بھی تھے ، ایک شخص نے مال غنیمت سے ایک سامان چرا لیا تو ولید بن ہشام کے حکم سے اس کا سامان جلا دیا گیا ، پھر وہ سب لوگوں میں پھرایا گیا اور اسے اس کا حصہ بھی نہیں دیا گیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : دونوں حدیثوں میں سے یہ حدیث زیادہ صحیح ہے ، اسے کئی لوگوں نے روایت کیا ہے کہ ولید بن ہشام نے زیاد بن سعد کے ساز و سامان کو اس لیے جلوا دیا تھا کہ اس نے مال غنیمت میں خیانت کی تھی ، اور اسے زد و کوب بھی کیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2714
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الحديث السابق (2713), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 99
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6763) (ضعیف) » (اس سند میں بھی صالح ہیں جو ضعیف راوی ہیں)