حدیث نمبر: 2713
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ النُّفَيْلِيُّ الدّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد ، وَصَالِحٌ هذا أبو واقد ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ مَسْلَمَةَ أَرْضَ الرُّومِ فَأُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ غَلَّ فَسَأَلَ سَالِمًا عَنْهُ فَقَالَ سَمِعْت أَبِي يُحَدِّثُ عَن عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا وَجَدْتُمُ الرَّجُلَ قَدْ غَلَّ فَأَحْرِقُوا مَتَاعَهُ وَاضْرِبُوهُ ، قَالَ : فَوَجَدْنَا فِي مَتَاعِهِ مُصْحَفًا فَسَأَلَ سَالِمًا عَنْهُ ، فَقَالَ : بِعْهُ وَتَصَدَّقْ بِثَمَنِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´صالح بن محمد بن زائدہ کہتے ہیں کہ` میں مسلمہ کے ساتھ روم کی سر زمین میں گیا تو وہاں ایک شخص لایا گیا جس نے مال غنیمت میں چوری کی تھی ، انہوں نے سالم سے اس سلسلہ میں مسئلہ پوچھا تو سالم بن عبداللہ نے کہا : میں نے اپنے والد کو بیان کرتے ہوئے سنا وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے تھے آپ نے فرمایا کہ جب تم کسی ایسے شخص کو پاؤ کہ جس نے مال غنیمت میں خیانت کی ہو تو اس کا سامان جلا دو ، اور اسے مارو ۔ راوی کہتے ہیں : ہمیں اس کے سامان میں ایک مصحف بھی ملا تو مسلمہ نے سالم سے اس کے متعلق پوچھا ، انہوں نے کہا : اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2713
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (1461), صالح بن محمد بن زائدة : ضعيف (تق : 2885) و قال الھيثمي : وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 6/ 274) و قال أيضًا : ضعفه أكثر الناس (مجمع الزوائد 7/ 210), والحديث ضعفه البيهقي (103/9), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 99
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الحدود 28 (1461)، (تحفة الأشراف: 6763)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/22)، سنن الدارمی/السیر 49 (2537) (ضعیف) » (اس سند کے راوی صالح ضعیف ہیں)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1461

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1461 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کا بیان۔`
عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو اللہ کی راہ میں مال (غنیمت) میں خیانت کرتے ہوئے پاؤ اس کا سامان جلا دو۔‏‏‏‏ صالح کہتے ہیں: میں مسلمہ کے پاس گیا، ان کے ساتھ سالم بن عبداللہ تھے تو مسلمہ نے ایک ایسے آدمی کو پایا جس نے مال غنیمت میں خیانت کی تھی، چنانچہ سالم نے (ان سے) یہ حدیث بیان کی، تو مسلمہ نے حکم دیا پھر اس (خائن) کا سامان جلا دیا گیا اور اس کے سامان میں ایک مصحف بھی پایا گیا تو سالم نے کہا: اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود/حدیث: 1461]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ’’صالح بن محمد بن زائدہ‘‘ ضعیف ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1461 سے ماخوذ ہے۔