سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي تَعْظِيمِ الْغُلُولِ باب: مال غنیمت میں چوری بڑا گناہ ہے۔
حدیث نمبر: 2710
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، وَبِشْرَ بْنَ الْمُفَضَّلِ . حدَّثَاهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ يَوْمَ خَيْبَرَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ النَّاسِ لِذَلِكَ فَقَالَ : إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَفَتَّشْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا خَرَزًا مِنْ خَرَزِ يَهُودَ لَا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کا غزوہ خیبر کے دن انتقال ہو گیا ، لوگوں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا : ” اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو “ ، یہ سن کر لوگوں کے چہرے بدل گئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے ساتھی نے جہاد میں خیانت کی ہے “ ، پھر جب ہم نے اس کا سامان ڈھونڈا تو یہود کے مونگوں میں سے ہمیں چند مونگے ملے جس کی قیمت دو درہم کے برابر بھی نہ تھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1961 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مال غنیمت چرانے والے کی نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔`
زید بن خالد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص خیبر میں مر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو، اس نے اللہ کی راہ میں چوری کی ہے “، تو (جب) ہم نے اس کے اسباب کی تلاشی لی تو ہمیں اس میں یہود کے نگینوں میں سے کچھ نگینے ملے، جو دو درہم کے برابر بھی نہیں تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1961]
زید بن خالد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص خیبر میں مر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو، اس نے اللہ کی راہ میں چوری کی ہے “، تو (جب) ہم نے اس کے اسباب کی تلاشی لی تو ہمیں اس میں یہود کے نگینوں میں سے کچھ نگینے ملے، جو دو درہم کے برابر بھی نہیں تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1961]
1961۔ اردو حاشیہ: گویا اس قسم کے لوگوں کا جنازہ چند لوگ پڑھیں، اہتمام نہ کیا جائے اور اہم شخصیات جنازہ نہ پڑھیں تاکہ ایسے مجرموں کی حوصلہ شکنی ہو اور انہیں خوف رہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1961 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 834 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
834- سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ خیبر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے۔ اشجع قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص فوت ہوگیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کرو۔“ جب لوگوں نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو انہیں اس کے سامان میں یہودیوں کاایک ہارملا جس کی قیمت دو درہم کے برابر بھی نہیں ہو گی۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:834]
فائدہ:
مال غنیمت میں خیانت بہت بڑا جرم ہے، چرائی ہوئی چیز چاہے معمولی ہی کیوں نہ ہو جرم کی شناعت میں فرق نہیں پڑتا۔ گویا اس قسم کے لوگوں کا جنازہ چند لوگ پڑھیں، اہتمام نہ کیا جائے اور اہم شخصیات جنازہ نہ پڑھیں تا کہ ایسے مجرموں کی حوصلہ شکنی ہو اور انھیں خوف رہے۔
دوسری حدیث میں خیانت کرنے والے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنمی قرار دیا ہے۔ [سنن ابي داود: 2849]
اس سے ان لوگوں کا بھی رد ہوتا ہے جو کہتے ہیں کہ مومن جہنم میں نہیں جا سکتا۔ کتاب و سنت کے دلائل پر غور سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے گناہ کی وجہ سے ایک گناہ گار مومن شخص بھی جہنم کا مستحق ہوسکتا ہے۔ تاہم جہنم کا دائمی عذاب صرف کافروں اور مشرکوں کے لیے ہے۔ واللہ اعلم۔
مال غنیمت میں خیانت بہت بڑا جرم ہے، چرائی ہوئی چیز چاہے معمولی ہی کیوں نہ ہو جرم کی شناعت میں فرق نہیں پڑتا۔ گویا اس قسم کے لوگوں کا جنازہ چند لوگ پڑھیں، اہتمام نہ کیا جائے اور اہم شخصیات جنازہ نہ پڑھیں تا کہ ایسے مجرموں کی حوصلہ شکنی ہو اور انھیں خوف رہے۔
دوسری حدیث میں خیانت کرنے والے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنمی قرار دیا ہے۔ [سنن ابي داود: 2849]
اس سے ان لوگوں کا بھی رد ہوتا ہے جو کہتے ہیں کہ مومن جہنم میں نہیں جا سکتا۔ کتاب و سنت کے دلائل پر غور سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے گناہ کی وجہ سے ایک گناہ گار مومن شخص بھی جہنم کا مستحق ہوسکتا ہے۔ تاہم جہنم کا دائمی عذاب صرف کافروں اور مشرکوں کے لیے ہے۔ واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 834 سے ماخوذ ہے۔