سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي النَّهْىِ عَنِ النُّهْبَى، إِذَا كَانَ فِي الطَّعَامِ قِلَّةٌ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ باب: دشمن کے علاقہ میں غلہ کی کمی ہو تو غلہ لوٹ کر اپنے لیے رکھنا منع ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَاصِمٍ يَعْنِي ابْنَ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَصَابَ النَّاسَ حَاجَةٌ شَدِيدَةٌ وَجَهْدٌ وَأَصَابُوا غَنَمًا فَانْتَهَبُوهَا فَإِنَّ قُدُورَنَا لَتَغْلِي ، إِذْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي عَلَى قَوْسِهِ فَأَكْفَأَ قُدُورَنَا بِقَوْسِهِ ثُمَّ جَعَلَ يُرَمِّلُ اللَّحْمَ بِالتُّرَابِ ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ النُّهْبَةَ لَيْسَتْ بِأَحَلَّ مِنَ الْمَيْتَةِ أَوْ إِنَّ الْمَيْتَةَ لَيْسَتْ بِأَحَلَّ مِنَ النُّهْبَةِ " ، الشَّكُّ مِنْ هَنَّادٍ .
´ایک انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے ، لوگوں کو اس سفر میں بڑی احتیاج اور سخت پریشانی ہوئی پھر انہیں کچھ بکریاں ملیں ، تو لوگوں نے انہیں لوٹ لیا ، ہماری ہانڈیاں ابل رہی تھیں ، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کمان پر ٹیک لگائے ہوئے تشریف لائے ، پھر آپ نے اپنے کمان سے ہماری ہانڈیاں الٹ دیں اور گوشت کو مٹی میں لت پت کرنے لگے ، اور فرمایا : ” لوٹ کا مال مردار سے زیادہ حلال نہیں “ ، یا فرمایا : ” مردار لوٹ کے مال سے زیادہ حلال نہیں “ ، یہ شک ہناد راوی کی جانب سے ہے ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ایک انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے، لوگوں کو اس سفر میں بڑی احتیاج اور سخت پریشانی ہوئی پھر انہیں کچھ بکریاں ملیں، تو لوگوں نے انہیں لوٹ لیا، ہماری ہانڈیاں ابل رہی تھیں، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کمان پر ٹیک لگائے ہوئے تشریف لائے، پھر آپ نے اپنے کمان سے ہماری ہانڈیاں الٹ دیں اور گوشت کو مٹی میں لت پت کرنے لگے، اور فرمایا: ” لوٹ کا مال مردار سے زیادہ حلال نہیں “، یا فرمایا: ” مردار لوٹ کے مال سے زیادہ حلال نہیں “، یہ شک ہناد راوی کی جانب س۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2705]
بلا ضرورت شرعی مشترکہ غنیمت میں سے کچھ لینا ناجائز ہے۔
ہاں اگر جہادی ضرورت کے پیش نظر اشد ضرورت ہو تو لے سکتا ہے۔
امیر سے اجازت لے اور اس کی کما حقہ حفاظت کرے۔
اور ضرورت پوری ہونے پر بروقت واپس کر دے۔
ضائع کر کے واپس دینا جرم ہے۔
اور ملی امانتوں کا یہی حکم ہے۔