سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي النَّهْىِ عَنِ النُّهْبَى، إِذَا كَانَ فِي الطَّعَامِ قِلَّةٌ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ باب: دشمن کے علاقہ میں غلہ کی کمی ہو تو غلہ لوٹ کر اپنے لیے رکھنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 2704
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُجَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : قُلْتُ : هَلْ كُنْتُمْ تُخَمِّسُونَ يَعْنِي الطَّعَامَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَصَبْنَا طَعَامًا يَوْمَ خَيْبَرَ فَكَانَ الرَّجُلُ يَجِيءُ فَيَأْخُذُ مِنْهُ مِقْدَارَ مَا يَكْفِيهِ ثُمَّ يَنْصَرِفُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے پوچھا : کیا آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غلہ کا پانچواں حصہ نکالا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا : ہمیں خیبر کے دن غلہ ملا تو آدمی آتا اور اس میں سے کھانے کی مقدار میں لے لیتا پھر واپس چلا جاتا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 1115 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´(جہاد کے متعلق احادیث)`
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر کے روز ہمیں کھانے کی اشیاء ہاتھ آئیں تو ہر آدمی آتا اور اس میں سے اپنی ضرورت کے مطابق کھانے کے لیے حاصل کر لیتا تھا پھر واپس چلا جاتا۔ اسے ابوداؤد نے نقل کیا ہے ابن جارود اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1115»
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر کے روز ہمیں کھانے کی اشیاء ہاتھ آئیں تو ہر آدمی آتا اور اس میں سے اپنی ضرورت کے مطابق کھانے کے لیے حاصل کر لیتا تھا پھر واپس چلا جاتا۔ اسے ابوداؤد نے نقل کیا ہے ابن جارود اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1115»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الجهاد، باب في النهي عن النهبي إذا كان في الطعام قلة...، حديث:2704، وابن الجارود، حديث:1072، والحاكم:2 /126 صححه علي شرط البخاري، ووافقه الذهبي.»
تشریح: اس سے بھی معلوم ہوا کہ خور و نوش کی چیزیں کھانے پینے کی حد تک ہر مجاہد تقسیم سے پہلے لے سکتا ہے‘ اس پر اس سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی۔
«أخرجه أبوداود، الجهاد، باب في النهي عن النهبي إذا كان في الطعام قلة...، حديث:2704، وابن الجارود، حديث:1072، والحاكم:2 /126 صححه علي شرط البخاري، ووافقه الذهبي.»
تشریح: اس سے بھی معلوم ہوا کہ خور و نوش کی چیزیں کھانے پینے کی حد تک ہر مجاہد تقسیم سے پہلے لے سکتا ہے‘ اس پر اس سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1115 سے ماخوذ ہے۔