سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي النَّهْىِ عَنِ النُّهْبَى، إِذَا كَانَ فِي الطَّعَامِ قِلَّةٌ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ باب: دشمن کے علاقہ میں غلہ کی کمی ہو تو غلہ لوٹ کر اپنے لیے رکھنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 2703
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي لُبَيْدٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ بِكَابُلَ ، فَأَصَابَ النَّاسُ غَنِيمَةً فَانْتَهَبُوهَا فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ النُّهْبَى فَرَدُّوا مَا أَخَذُوا فَقَسَمَهُ بَيْنَهُمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو لبید کہتے ہیں کہ` ہم عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کابل میں تھے وہاں لوگوں کو مال غنیمت ملا تو انہوں نے اسے لوٹ لیا ، عبدالرحمٰن نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ لوٹنے سے منع فرماتے تھے ، تو لوگوں نے جو کچھ لیا تھا واپس لوٹا دیا ، پھر انہوں نے اسے ان میں تقسیم کر دیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دشمن کے علاقہ میں غلہ کی کمی ہو تو غلہ لوٹ کر اپنے لیے رکھنا منع ہے۔`
ابو لبید کہتے ہیں کہ ہم عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کابل میں تھے وہاں لوگوں کو مال غنیمت ملا تو انہوں نے اسے لوٹ لیا، عبدالرحمٰن نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ لوٹنے سے منع فرماتے تھے، تو لوگوں نے جو کچھ لیا تھا واپس لوٹا دیا، پھر انہوں نے اسے ان میں تقسیم کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2703]
ابو لبید کہتے ہیں کہ ہم عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کابل میں تھے وہاں لوگوں کو مال غنیمت ملا تو انہوں نے اسے لوٹ لیا، عبدالرحمٰن نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ لوٹنے سے منع فرماتے تھے، تو لوگوں نے جو کچھ لیا تھا واپس لوٹا دیا، پھر انہوں نے اسے ان میں تقسیم کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2703]
فوائد ومسائل:
1۔
یعنی جس طرح مردار کا گوشت حلال اور جائز نہیں۔
یہی حکم لوٹ کے اس مال کا ہے۔
جو بلااستحقاق لیا جائے۔
2۔
نبی کریم ﷺ نے انتہائی مشقت اور احتیاج کے حالات میں بھی دوسروں کا حق کھانے کی اجازت نہیں دی۔
3۔
مالی سزا دینا (تعزیر بالمال) جائز ہے۔
4۔
امام پر واجب ہے کہ اپنی رعیت میں عدل وانصاف کا ہر حال میں اہتمام کرے۔
اس سے اللہ کی رحمت اترتی اور دشمن پر غلبہ ملتا ہے۔
1۔
یعنی جس طرح مردار کا گوشت حلال اور جائز نہیں۔
یہی حکم لوٹ کے اس مال کا ہے۔
جو بلااستحقاق لیا جائے۔
2۔
نبی کریم ﷺ نے انتہائی مشقت اور احتیاج کے حالات میں بھی دوسروں کا حق کھانے کی اجازت نہیں دی۔
3۔
مالی سزا دینا (تعزیر بالمال) جائز ہے۔
4۔
امام پر واجب ہے کہ اپنی رعیت میں عدل وانصاف کا ہر حال میں اہتمام کرے۔
اس سے اللہ کی رحمت اترتی اور دشمن پر غلبہ ملتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2703 سے ماخوذ ہے۔