حدیث نمبر: 2701
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ جَيْشًا غَنِمُوا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا وَعَسَلًا فَلَمْ يُؤْخَذْ مِنْهُمُ الْخُمُسُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` ایک لشکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ( دوران جنگ ) غلہ اور شہد غنیمت میں لایا تو اس میں سے خمس نہیں لیا گیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2701
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (4021), رواه البخاري (3154)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7811)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فرض الخمس 20 (3154) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : بلوغ المرام: 1114

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 1114 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´(جہاد کے متعلق احادیث)`
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے کہ ہمیں غزوات میں شہد، انگور ہاتھ آتے تو ان کو کھا پی لیتے اٹھا کر نہیں لے جاتے تھے۔ (بخاری) اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ ان کھانے والے حضرات سے خمس وصول نہیں کیا جاتا تھا اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1114»
تخریج:
«أخرجه البخاري، فرض الخمس، باب ما يصيب من الطعام في أرض الحرب، 3154، وأبوداود، الجهاد، حديث:2701، وابن حبان (الموارد)، حديث:1670، وهو حديث صحيح.»
تشریح: 1. اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ دوران جنگ میں مجاہدوں کے ہاتھ کھانے پینے کی اگر کچھ چیزیں آجائیں تو انھیں وہیں کھا پی سکتے ہیں‘ مال غنیمت میں جمع کروانے کی ضرورت نہیں‘ البتہ ذخیرہ اندوزی کے لیے اٹھا کر لے جانا درست نہیں ہے۔
2.خور و نوش کے علاوہ اگر دشمن کے جانور اور ہتھیار قبضے میں آجائیں تو انھیں جنگ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں مگر جنگ کے اختتام پر مال غنیمت میں واپس جمع کرانا واجب ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1114 سے ماخوذ ہے۔