سنن ابي داود
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے مسائل
باب فِي الرَّجُلِ يُصِيبُ مِنْهَا مَا دُونَ الْجِمَاعِ باب: حائضہ عورت سے جماع کے سوا آدمی سب کچھ کر سکتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غُرَابٍ ، قَال : إِنّ عَمَّة لَهُ حَدَّثَتْهُ ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : إِحْدَانَا تَحِيضُ وَلَيْسَ لَهَا وَلِزَوْجِهَا إِلَّا فِرَاشٌ وَاحِدٌ ، قَالَتْ : " أُخْبِرُكِ بِمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، دَخَلَ لَيْلا وَأَنَا حَائِضٌ ، فَمَضَى إِلَى مَسْجِدِهِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : تَعْنِي مَسْجِدَ بَيْتِهِ ، فَلَمْ يَنْصَرِفْ حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي وَأَوْجَعَهُ الْبَرْدُ ، فَقَالَ : ادْنِي مِنِّي ، فَقُلْتُ : إِنِّي حَائِضٌ ، فَقَالَ : وَإِنْ ، اكْشِفِي عَنْ فَخِذَيْكِ ، فَكَشَفْتُ فَخِذَيَّ فَوَضَعَ خَدَّهُ وَصَدْرَهُ عَلَى فَخِذِي وَحَنَيْتُ عَلَيْهِ حَتَّى دَفِئَ وَنَامَ " .
´عمارہ بن غراب کہتے ہیں : ان کی پھوپھی نے ان سے بیان کیا کہ` انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ ہم میں سے ایک عورت کو حیض آتا ہے ، اور اس کے اور اس کے شوہر کے پاس صرف ایک ہی بچھونا ہے ( ایسی صورت میں وہ حائضہ عورت کیا کرے ؟ ) ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بتاتی ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے اور اپنی نماز پڑھنے کی جگہ میں چلے گئے ( ابوداؤد کہتے ہیں : مسجد سے مراد گھر کے اندر نماز کی جگہ ” مصلی “ ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے پہلے مجھے نیند آ گئی ، ادھر آپ کو سردی نے ستایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میرے قریب آ جاؤ “ ، تو میں نے کہا : میں حائضہ ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنی ران کھولو “ ، میں نے اپنی رانیں کھول دیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رخسار اور سینہ میری ران پر رکھ دیا ، میں اوپر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک گئی ، یہاں تک کہ آپ کو گرمی پہنچ گئی ، اور سو گئے ۔