سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي فِدَاءِ الأَسِيرِ بِالْمَالِ باب: قیدی کو مال لے کر رہا کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُدُّوا عَلَيْهِمْ نِسَاءَهُمْ وَأَبْنَاءَهُمْ فَمَنْ مَسَكَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَا الْفَيْءِ فَإِنَّ لَهُ بِهِ عَلَيْنَا سِتَّ فَرَائِضَ مِنْ أَوَّلِ شَيْءٍ يُفِيئُهُ اللَّهُ عَلَيْنَا ، ثُمَّ دَنَا يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَعِيرٍ فَأَخَذَ وَبَرَةً مِنْ سَنَامِهِ ثُمَّ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَيْسَ لِي مِنْ هَذَا الْفَيْءِ شَيْءٌ وَلَا هَذَا ، وَرَفَعَ أُصْبُعَيْهِ إِلَّا الْخُمُسَ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ فَأَدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمِخْيَطَ . فَقَامَ رَجُلٌ فِي يَدِهِ كُبَّةٌ مِنْ شَعْرٍ فَقَالَ : أَخَذْتُ هَذِهِ لِأُصْلِحَ بِهَا بَرْذَعَةً لِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَّا مَا كَانَ لِي وَ لِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكَ ، فَقَالَ : أَمَّا إِذْ بَلَغَتْ مَا أَرَى فَلَا أَرَبَ لِي فِيهَا وَنَبَذَهَا " .
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اسی قصہ کی روایت میں کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان کی عورتوں اور بچوں کو واپس لوٹا دو ، اور جو کوئی اس مال غنیمت سے اپنا حصہ باقی رکھنا چاہے تو ہم اس کو اس پہلے مال غنیمت سے جو اللہ ہمیں دے گا چھ اونٹ دیں گے “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹ کے قریب آئے اور اس کی کوہان سے ایک بال لیا پھر فرمایا : ” لوگو ! میرے لیے اس مال غنیمت سے کچھ بھی حلال نہیں ہے “ ، اور اپنی دونوں انگلیاں اٹھا کر کہا : ” یہاں تک کہ یہ ( بال ) بھی حلال نہیں سوائے خمس ( پانچواں حصہ ) کے ، اور خمس بھی تمہارے ہی اوپر لوٹا دیا جاتا ہے ، لہٰذا تم سوئی اور دھاگا بھی ادا کر دو “ ( یعنی بیت المال میں جمع کر دو ) ، ایک شخص کھڑا ہو اس کے ہاتھ میں بالوں کا ایک گچھا تھا ، اس نے کہا : میں نے اس کو پالان کے نیچے کی کملی درست کرنے کے لیے لیا تھا ؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رہا میرا اور بنی عبدالمطلب کا حصہ تو وہ تمہارے لیے ہے “ ، تو اس نے کہا : جب معاملہ اتنا اہم ہے تو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، اور اس نے اسے ( غنیمت کے مال میں ) پھینک دیا ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اسی قصہ کی روایت میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ان کی عورتوں اور بچوں کو واپس لوٹا دو، اور جو کوئی اس مال غنیمت سے اپنا حصہ باقی رکھنا چاہے تو ہم اس کو اس پہلے مال غنیمت سے جو اللہ ہمیں دے گا چھ اونٹ دیں گے “، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹ کے قریب آئے اور اس کی کوہان سے ایک بال لیا پھر فرمایا: ” لوگو! میرے لیے اس مال غنیمت سے کچھ بھی حلال نہیں ہے “، اور اپنی دونوں انگلیاں اٹھا کر کہا: ” یہاں تک کہ یہ (بال) بھی حلال نہیں سوائے خمس (پانچواں حصہ) کے، اور خمس بھی تمہارے ہی اوپر لوٹا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2694]
1۔
مسلمانوں پر واجب ہے کہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ہمیشہ سچی اور صاف بات کیا کریں۔
2۔
مسلمانوں کے قائد کو یہ بھی حق نہیں کہ ان کی ولی ر ضا مندی کے بغیر ان کے مال پرکوئی تصرف کرے۔
3۔
اگر اجتماعی مصلحت کے تحت کوئی تصرف کرتا ہو تو اس کاعو ض ادا کرنا لازمی ہے۔
4۔
حسب مصلحت قیدیوں کو فدیہ لئے بغیر آذاد کرنا جائز ہے۔
5۔
قومی امانت میں معمولی خیانت بھی جرم عظیم ہے۔
لہذا منصب داروں کو فکرکرنی چاہیے۔
اور خبر دار رہنا چاہیے۔
6۔
ہر قوم اور جماعت کو اجتماعی نظم قائم کرتے ہوئے اپنا امیر اور نمائندہ منتخب کرنا چاہیے جو اجتماعی امور میں ان کی نمائندگی کرے۔