حدیث نمبر: 2693
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا عَمِّي يَعْنِي سَعِيدَ بْنَ الْحَكَمِ قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : وَذَكَرَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ مَرْوَانَ ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَعِي مَنْ تَرَوْنَ وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ فَاخْتَارُوا إِمَّا السَّبْيَ وَإِمَّا الْمَالَ ، فَقَالُوا : نَخْتَارُ سَبْيَنَا ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ هَؤُلَاءِ جَاءُوا تَائِبِينَ وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ ، وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ ، فَقَالَ : النَّاسُ قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ " ، فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ فَأَخْبَرُوهُمْ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ عروہ بن زبیر نے ذکر کیا کہ انہیں مروان اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ` جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفد ہوازن مسلمان ہو کر آیا اور اس نے آپ سے درخواست کی کہ آپ ان کے مال انہیں واپس لوٹا دیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” میرے ساتھ جو ہیں انہیں تم دیکھ رہے ہو ، اور میرے نزدیک سب سے عمدہ بات سچی بات ہے تم یا تو قیدیوں ( کی واپسی ) اختیار کر لو یا مال “ ، انہوں نے کہا : ہم اپنے قیدیوں کو اختیار کریں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اس کے بعد فرمایا : ” تمہارے یہ بھائی ( شرک سے ) توبہ کر کے آئے ہیں ، میں چاہتا ہوں کہ ان کے قیدیوں کو واپس لوٹا دوں ، لہٰذا تم میں سے جو شخص اپنی خوشی سے واپس لوٹا سکتا ہو تو وہ واپس لوٹا دے ، اور جو شخص اپنا حصہ لینے پر مصر ہے تو پہلا مال غنیمت جو اللہ ہم کو دے ہم اس میں سے اس کا عوض دیں تو وہ ایسا ہی کر لے “ ، لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم نے انہیں بخوشی واپس لوٹا دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” ہم نہیں جانتے کہ تم میں سے کس نے اجازت دی ، اور کس نے نہیں دی ؟ لہٰذا تم واپس جاؤ یہاں تک کہ تمہارے سردار معاملہ کی تفصیل ہمارے پاس لے کر آئیں “ ، لوگ لوٹ گئے ، اور ان سے ان کے سرداروں نے بات کی تو انہوں نے اپنے سرداروں کو بتایا کہ انہوں نے خوشی خوشی اجازت دی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2693
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2307، 2308)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الوکالة 7 (2307)، العتق 13 (2540)، الھبة 10 (2583)، المغازي 54 (4318)، (تحفة الأشراف: 11251)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/326) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2584 | صحيح البخاري: 2608 | صحيح البخاري: 3132 | صحيح البخاري: 4319

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2608 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2608[صحيح بخاري، حديث نمبر:2608]
حدیث حاشیہ: باب کی مطابقت ظاہر ہے کہ صحابہ نے جو متعدد لوگ تھے، ہوازن کے لوگوں کو جو متعدد تھے، قیدیوں کا ہبہ کیا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2608 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2608 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2608[صحيح بخاري، حديث نمبر:2608]
حدیث حاشیہ:
غنیمت حاصل کرنے والے کئی لوگ تھے، انہوں نے قیدی وفد ہوازن کو ہبہ کیے۔
اس حدیث سے امام بخاری ؒ نے استدلال کیا ہے کہ مشترکہ چیز کا ہبہ جائز ہے۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ شرعی ہبہ نہیں تھا کیونکہ قبیلۂ ہوازن کو ان کے قیدی واپس کیے گئے تھے۔
اگر کوئی چیز اصل مالک کو واپس کر دی جائے تو اسے ہبہ نہیں کہا جاتا۔
ہمارے رجحان کے مطابق یہ ہبہ ہی کی ایک صورت تھی کیونکہ وہ جنگی قیدی اب غنیمت حاصل کرنے والوں کی ملکیت تھے اور انہوں نے اپنی ملکیت وفد ہوازن کو ہبہ کی تھی۔
اس سے معلوم ہوا کہ مشاع کا ہبہ جو تقسیم ہو سکتا ہے جائز ہے۔
امام ابو حنیفہ ؒ اسے تسلیم نہیں کرتے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2608 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2584 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2584[صحيح بخاري، حديث نمبر:2584]
حدیث حاشیہ: مسور بن مخرمہ ؓ کی کنیت ابوعبدالرحمن ہے، زہری و قریشی ہیں۔
عبدالرحمن بن عوف ؓ کے بھانجے ہیں۔
ہجرت نبی کے دو سال بعد مکہ میں ان کی پیدائش ہوئی۔
ذی الحجہ 8 ھ میں مدینہ منورہ پہنچے۔
وفات نبوی کے وقت ان کی عمر صرف آٹھ سال تھی۔
انہوں نے آنحضرت ﷺ سے حدیث کی سماعت کی اور ان کو یاد رکھا۔
بڑے فقیہ اور صاحب فضل اور دیندار تھے۔
عثمان ؓ کی شہادت تک مدینہ ہی میں مقیم رہے۔
بعد شہادت مکہ میں منتقل ہوگئے اور معاویہ ؓ کی وفات تک وہیں مقیم رہے۔
انہوں نے یزید کی بیعت کو پسند نہیں کیا۔
لیکن پھر بھی مکہ ہی میں رہے جب تک کہ یزید نے لشکر بھیجا اور مکہ کا محاصرہ کرلیا۔
اس وقت ابن زبیر ؓ مکہ ہی میں موجود تھے۔
چنانچہ اس محاصرہ میں مسور بن مخرمہ ؓ کو بھی منجنیق سے پھینکا ہوا ایک پتھر لگا۔
یہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔
اس پتھر سے ان کی شہادت واقع ہوئی۔
یہ واقعہ ربیع الاول64ھ کی چاند رات کو ہوا۔
ان سے بہت سے لوگوں نے روایت کی ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2584 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2584 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2584[صحيح بخاري، حديث نمبر:2584]
حدیث حاشیہ:
اس روایت کے مطابق آئندہ مالِ غنیمت کا معاملہ مبہم تھا، گویا وہ غائب تھا لیکن رسول اللہ ﷺ نے آئندہ آنے والا مال ہبہ کر دیا۔
اس میں کوئی چیز حاضر نہیں تھی۔
اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شے معلوم ہو اور اس کا حصول ممکن ہو تو غائب چیز ہبہ کی جا سکتی ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2584 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3132 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3132. حضرت مروان بن حکیم اور حضرت مسور بن مخرمہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جب ہوازن کے لوگ مسلمان ہوکر آئے اور آپ سے درخواست کی کہ ان کے مال اور قیدی انھیں واپس کردیں تو آپ نے ان سے فرمایا: ’’مجھے وہ بات پسند ہے جو سچی ہو۔ تم دو چیزوں میں سے ایک چیز اختیار کرسکتے ہو: قیدی یا مال مویشی۔ میں نے اس سلسلے میں بہت انتظار کیا۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے واقعی تقریباً دس دن تک طائف سے واپسی پر ان کا انتظار کیا تھا۔ جب ان پر یہ امر واضح ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ ان کو صرف ایک ہی چیز واپس کریں گے تو انھوں نے عرض کیا: ہم اپنے قیدیوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ مسلمانوں میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی اس کے شایان شان تعریف کی۔ اس کے بعد فرمایا: ’’أمابعد، تمہارے یہ بھائی تائب ہوکر آئے ہیں اور میرا خیال ہے کہ میں ان کے قیدی انھیں واپس کردوں۔ جو کوئی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:3132]
حدیث حاشیہ: قوم ہوازن میں آپ ﷺ کی اولین دایہ حلیمہ سعدیہ تھیں۔
ابن اسحاق نے مغازی میں نکالا کہ ہوازن والوں نے آنحضرت ﷺ سے یوں عرض کیا تھا آپ ان عورتوں پر احسان کیجئے جن کا آپ نے دودھ پیا ہے۔
آنحضرت ﷺ نے اسی بنا پر ہوازن والوں کو بھائی قرار دیا اور مجاہدین سے فرمایا کہ وہ اپنے اپنے حصہ کے لونڈی غلام ان کو واپس کردیں‘ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔
اس حدیث میں کئی ایک تمدنی امور بھی بتلائے گئے ہیں جن میں اقوام میں نمائندگی کا اصول بھی ہے جسے اسلام نے سکھایا ہے اسی اصول پر موجودہ جمہوری طرز حکومت وجود میں آیا ہے۔
اس روایت کی سندمیں مروان بن حکم کا بھی نام آیا ہے‘ اس پر مولانا وحید الزمان مرحوم فرماتے ہیں: مروان نے نہ آنحضرتﷺ سے سنا ہے‘ نہ آپ ﷺ کی صحبت اٹھائی ہے۔
اس کے اعمال بہت خراب تھے اور اسی وجہ سے لوگوں نے حضرت امام بخاری پر طعن کیا ہے کہا مروان سے روایت کرتے ہیں۔
حالانکہ حضرت امام بخاری ؒ نے اکیلے مروان سے روایت نہیں کی‘ بلکہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ‘ جوصحابی ہیں‘ روایت کی ہے اور اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض برے شخص حدیث کی روایت میں سچا اور با احتیاط ہوتا ہے تو محدثین اس سے روایت کرتے ہیں۔
اور کوئی شخص بہت نیک اور صالح ہوتاہے لیکن وہ عبادت یا دوسرے علم میں مصروف رہنے کہ وجہ سے حدیث کے الفاظ اور متن کا خوب خیال نہیں رکھتا‘ تومحدثین اس سے روایت نہیں کرتے یا اس کی روایت کو ضعیف جانتے ہیں۔
ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔
مجتہدین عظام میں کچھ حضرات توایسے ہیں جن کا طریقہ کار استخراج و استنباط مسائل اجتہاد کے طریق پر تھا۔
کچھ فقہ اور حدیث ہر دو کے جامع تھے۔
بہر حال حضرت امام بخاری ؒ اپنی جگہ پر مجتہد مطلق ہیں۔
اگر وہ کسی جگہ مروان جیسے لوگوں کی مرویات نقل کرتے ہیں تو ان کے ساتھ کسی اور معتبر شاہد کو بھی پیش کردیتے ہیں۔
جو ان کے کمال احتیاط کی دلیل ہے اور اس بنا پر ان پر طعن کرنا محض تعصب اور کورباطنی کا ثبوت دینا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3132 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3132 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3132. حضرت مروان بن حکیم اور حضرت مسور بن مخرمہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جب ہوازن کے لوگ مسلمان ہوکر آئے اور آپ سے درخواست کی کہ ان کے مال اور قیدی انھیں واپس کردیں تو آپ نے ان سے فرمایا: ’’مجھے وہ بات پسند ہے جو سچی ہو۔ تم دو چیزوں میں سے ایک چیز اختیار کرسکتے ہو: قیدی یا مال مویشی۔ میں نے اس سلسلے میں بہت انتظار کیا۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے واقعی تقریباً دس دن تک طائف سے واپسی پر ان کا انتظار کیا تھا۔ جب ان پر یہ امر واضح ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ ان کو صرف ایک ہی چیز واپس کریں گے تو انھوں نے عرض کیا: ہم اپنے قیدیوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ مسلمانوں میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی اس کے شایان شان تعریف کی۔ اس کے بعد فرمایا: ’’أمابعد، تمہارے یہ بھائی تائب ہوکر آئے ہیں اور میرا خیال ہے کہ میں ان کے قیدی انھیں واپس کردوں۔ جو کوئی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:3132]
حدیث حاشیہ:

رسول اللہ ﷺکو سب سے پہلے دودھ پلانے والی حلیمہ سعدیہ ہوازن قبیلے سے تھیں ہوازن والوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی کہ آپ ان عورتوں پر احسان کیجیے جن کا آپ نے دودھ پیا ہے ہے۔
اسی بناپر رسول اللہ ﷺنے ہوازن والوں کو بھائی قرار دیا اور مجاہدین سے فرمایا: ’’وہ اپنے حصے کے غلام اور لونڈیاں آزاد کریں اور ان کو واپس کردیں۔
‘‘ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔

امام بخاری ؒ نے اس سے ثابت کیا ہے کہ خمس کا مصرف امام کی صوابدید پر موقوف ہے کیونکہ آپ نے فرمایا: ’’ہم پہلے پہلے مال فے سے جو اللہ ہمیں عطا فرمائےگا۔
اس میں سے اس کو حصہ دیں گے۔
‘‘ ان الفاظ کا ظاہری مفہوم یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد مال خمس ہے جو مسلمانوں کی ضروریات کے لیے صرف ہوگا۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3132 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4319 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
4319[صحيح بخاري، حديث نمبر:4319]
حدیث حاشیہ: ہوازن کے وفد میں24 آدمی آئے تھے جن میں ابو بر قان سعدی بھی تھا، اس نے کہا یارسول اللہ! ان قیدیوں میں آپ کے دودھ کے رشتہ سے آپ کی کئی مائیں اور خالہ ہیں اور دودھ کی بہنیں بھی ہیں۔
آپ ہم پر کرم فرمائیں اور ان سب کو آزاد فرما دیں۔
آپ پر اللہ بہت کرم کرے گا۔
آپ نے جو جواب دیا وہ روایت میں یہاں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔
آپ نے سارے قیدیو ں کو آزاد فرما دیا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4319 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4319 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4319[صحيح بخاري، حديث نمبر:4319]
حدیث حاشیہ:
عرب کا دستور تھا کہ جب وہ سخت لڑائی کا ارادہ کرتے تو اہل و عیال اور مال و مویشی اپنے ہمراہ لے آتے تاکہ لڑنے والے کو معلوم رہے کہ اگر اس نے شکست کھائی تو سب مال واسباب اور اہل عیال دشمن کے قبضے میں چلا جائے گا۔
بنو ہوازن نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے دیکھ کر فرمایا: "اگر اللہ نے چاہا تو یہ سب مال و متاع ہمارے پاس بطور غنیمت آئے گا۔
" چنانچہ ایسا ہی ہوا گھمسان کی جنگ ہوئی قبیلہ ہوازن بری طرح شکست کھا کربھاگ نکلا ان کا مال واسباب اور بچے عورتیں سب مسلمانوں کے قبضے میں آگئیں۔
رسول اللہ ﷺ نے کافی دن ان کا انتظار کیا آپ کی خواہش تھی کہ قبیلہ ہوازن کے لوگ مسلمان ہو کر ہمارے پاس آئیں تو میں مجاہدین سے کہہ دوں گا۔
کہ ان کامال انھیں واپس کردیا جائے۔
لیکن جب انھوں نے کافی تاخیر کی تو آپ نے مقام جعرانہ میں مال غنیمت تقسیم کردیا۔
تقسیم کے بعد چوبیس افراد پر مشتمل ہوازن کا ایک وفد آیا جن میں ابو برقان سعدی بھی تھا اس نے کہا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ! ان قیدیوں میں آپ کے دودھ کے رشتے سے آپ کی کئی مائیں، خالائیں، اور دودھ کی بہنیں ہیں، آپ ہم پر احسان فرمائیں، اللہ تعالیٰ آپ پر احسان فرمائے گا۔
رسول اللہ ﷺ نے جو جواب دیا وہ حدیث میں مذکورہ ہے بہر حال آپ نے تمام قیدیوں کو آزادکردیا۔
(فتح الباري: 43/8)
قیدی واپس کرنے سے پہلے آپ نے مہاجرین سے مشورہ کیا تو انھوں نے عرض کی: ہمارا سب مال آپ کے لیے ہے انصار نے بھی یہی جواب دیا۔
اقرع بن حابس نے کہا: میں اور بنو تمیم اس پر راضی نہیں ہیں عیینہ نے کہا: میں اور بنو فزارہ بھی مال واپس دینے کے لیے تیار نہیں۔
عباس بن مرداس نے کہا کہ میں اور بنو سلیم بھی بخوشی ایسا نہیں کر سکتے۔
چونکہ یہ مال مجاہدین کا تھا اس لیے نبی ﷺ نے ان سے اجازت لینے کے لیے نمائندگی کا طریقہ اختیار کیا، اس طرح بنو ہوازن کے بچے اور عورتیں واپس کی گئی۔
(فتح الباري: 43/8)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4319 سے ماخوذ ہے۔