حدیث نمبر: 2677
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " عَجِبَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قَوْمٍ يُقَادُونَ إِلَى الْجَنَّةِ فِي السَّلَاسِلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” ہمارا رب ایسے لوگوں سے خوش ہوتا ہے جو بیڑیوں میں جکڑ کر جنت میں لے جائے جاتے ہیں ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: مراد وہ لوگ ہیں جو قید ہو کر مسلمانوں کے ہاتھ میں آتے ہیں پھر اللہ انہیں اسلام کی توفیق دیتا ہے اور وہ اسلام قبول کرکے جنت کی راہ پر چل پڑتے ہیں یا وہ مسلمان قیدی مراد ہیں جو کفار کے ہاتھوں قید ہو کر انتقال کر جاتے ہیں پھر اللہ انہیں جنت میں داخل کرتا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´قیدی کے باندھنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: " ہمارا رب ایسے لوگوں سے خوش ہوتا ہے جو بیڑیوں میں جکڑ کر جنت میں لے جائے جاتے ہیں ۱؎۔" [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2677]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: " ہمارا رب ایسے لوگوں سے خوش ہوتا ہے جو بیڑیوں میں جکڑ کر جنت میں لے جائے جاتے ہیں ۱؎۔" [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2677]
فوائد ومسائل:
یعنی کچھ لوگ بحالت کفر قید ہوجاتے ہیں۔
پھر ہدایت پاکرمسلمان ہوجاتے ہیں۔
تو ان شاء اللہ جنت میں جایئں گے۔
معلوم ہوا کہ قیدی کو باندھ لینا جائز ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو مسلمان کفار کی قید میں وفات پا جایئں یا شہید کردیئے جایئں تو وہ اسی حالت میں اٹھا ئے جایئں گے۔
یعنی کچھ لوگ بحالت کفر قید ہوجاتے ہیں۔
پھر ہدایت پاکرمسلمان ہوجاتے ہیں۔
تو ان شاء اللہ جنت میں جایئں گے۔
معلوم ہوا کہ قیدی کو باندھ لینا جائز ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو مسلمان کفار کی قید میں وفات پا جایئں یا شہید کردیئے جایئں تو وہ اسی حالت میں اٹھا ئے جایئں گے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2677 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3010 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3010. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے حال پر تعجب کرتا ہے جو جنت میں زنجیروں میں جکڑے ہوئے داخل ہوں گے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3010]
حدیث حاشیہ: لیکن بعد میں اسلام لائے اور فوراً ہی شہید ہو کر جنت میں داخل ہوگئے۔
یعنی اللہ نے ان لوگوں پر تعجب کیا جو بہشت میں داخل ہوں گے اور دنیا میں زنجیریں پہنتے تھے یعنی پہلے لڑائی میں قید ہو کر پابہ زنجیر آئے پھر خوشی سے مسلمان ہوگئے اور بہشت پائی۔
اس حدیث سے حضرت امام بخاریؒ نے قیدیوں کے لئے زنجیروں کا پہننا ثابت فرمایا۔
أي الذین أسروا في الحرب وجاء بھم المسلمون بالسلاسل فأسلموا أو أنھم المسلمون الذین أساروا في أیدي الکفار مسلسلین فیموتون أو یقتلون علی ھذہ الحالة فیحشرون علیھا ویدخلون الجنة کذا في الخیر الجاري‘عبارت ہذا کا خلاصہ مطلب وہی ہے جو اوپر بیان ہوا۔
یعنی اللہ نے ان لوگوں پر تعجب کیا جو بہشت میں داخل ہوں گے اور دنیا میں زنجیریں پہنتے تھے یعنی پہلے لڑائی میں قید ہو کر پابہ زنجیر آئے پھر خوشی سے مسلمان ہوگئے اور بہشت پائی۔
اس حدیث سے حضرت امام بخاریؒ نے قیدیوں کے لئے زنجیروں کا پہننا ثابت فرمایا۔
أي الذین أسروا في الحرب وجاء بھم المسلمون بالسلاسل فأسلموا أو أنھم المسلمون الذین أساروا في أیدي الکفار مسلسلین فیموتون أو یقتلون علی ھذہ الحالة فیحشرون علیھا ویدخلون الجنة کذا في الخیر الجاري‘عبارت ہذا کا خلاصہ مطلب وہی ہے جو اوپر بیان ہوا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3010 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3010 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3010. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے حال پر تعجب کرتا ہے جو جنت میں زنجیروں میں جکڑے ہوئے داخل ہوں گے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3010]
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ دنیا میں پابہ زنجیر ہوکر مسلمانوں کے قیدی بنے،پھر خوشی سے مسلمان ہوئے،اس کے بعد انھیں اسلام سے محبت پر موت آئی اور جنت میں داخل ہوئے،یعنی ان کا زنجیروں میں جکڑاجانا جنت میں داخلے کا سبب بنا۔
2۔
اس حدیث سے امام بخاری ؒنے قیدیوں کو زنجیریں ڈالنے کا جواز ثابت فرمایا ہے۔
3۔
اس حدیث کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیاجاتا ہے کہ اس سے مراد وہ مسلمان ہیں جو کفار کے ہاتھوں قیدی بنیں اور انھیں زنجیریں پہنائی جائیں،پھر انھیں اسی حالت میں موت آجائے تو وہ جنت میں داخل ہوں گے تو کیا یہ قیدان کے لیے جنت میں داخلے کا باعث ہوئی،لیکن ہمارے نزدیک پہلامفہوم راجح ہے اور امام بخاری ؓکے قائم کردہ عنوان کے مطابق ہے۔
واللہ أعلم۔
1۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ دنیا میں پابہ زنجیر ہوکر مسلمانوں کے قیدی بنے،پھر خوشی سے مسلمان ہوئے،اس کے بعد انھیں اسلام سے محبت پر موت آئی اور جنت میں داخل ہوئے،یعنی ان کا زنجیروں میں جکڑاجانا جنت میں داخلے کا سبب بنا۔
2۔
اس حدیث سے امام بخاری ؒنے قیدیوں کو زنجیریں ڈالنے کا جواز ثابت فرمایا ہے۔
3۔
اس حدیث کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیاجاتا ہے کہ اس سے مراد وہ مسلمان ہیں جو کفار کے ہاتھوں قیدی بنیں اور انھیں زنجیریں پہنائی جائیں،پھر انھیں اسی حالت میں موت آجائے تو وہ جنت میں داخل ہوں گے تو کیا یہ قیدان کے لیے جنت میں داخلے کا باعث ہوئی،لیکن ہمارے نزدیک پہلامفہوم راجح ہے اور امام بخاری ؓکے قائم کردہ عنوان کے مطابق ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3010 سے ماخوذ ہے۔