حدیث نمبر: 2674
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ ، وَقُتَيْبَةُ ، أن الليث بن سعد . حدثهم عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْثٍ فَقَالَ : " إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا وَفُلَانًا " ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک جنگ میں بھیجا اور فرمایا : ” اگر تم فلاں اور فلاں کو پانا “ ، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2674
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (3016)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الجھاد 149 (3016)، سنن الترمذی/السیر 20 (1571)، (تحفة الأشراف: 13481)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/307، 338، 453) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دشمن کو آگ سے جلانے کی کراہت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک جنگ میں بھیجا اور فرمایا: اگر تم فلاں اور فلاں کو پانا ، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2674]
فوائد ومسائل:
کسی قیدی یا مجرم کو آگ سے جلانا ناجائز اور حرام ہے۔
البتہ جنگی مصالح کے پیش نظر قلعوں اور عمارتوں وغیرہ کو جلانے میں کوئی حرج نہیں۔
اور یہی حکم گولہ بارود اور بمباری کا ہے۔
اور اگر اس کی زد میں کوئی آجائے تو معاف ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2674 سے ماخوذ ہے۔