سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي قَتْلِ النِّسَاءِ باب: عورتوں کے قتل کی ممانعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمْ يُقْتَلْ مِنْ نِسَائِهِمْ تَعْنِي بَنِي قُرَيْظَةَ إِلَّا امْرَأَةٌ إِنَّهَا لَعِنْدِي تُحَدِّثُ تَضْحَكُ ظَهْرًا وَبَطْنًا ، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يقتل رجالهم بالسيوف ، إذ هتف هاتف باسمها أين فلانة ؟ قَالَتْ : أَنَا ، قُلْتُ : وَمَا شَأْنُكِ ؟ قَالَتْ : حَدَثٌ أَحْدَثْتُهُ ، قَالَتْ : فَانْطَلَقَ بِهَا فَضُرِبَتْ عُنُقُهَا فَمَا أَنْسَى عَجَبًا مِنْهَا أَنَّهَا تَضْحَكُ ظَهْرًا وَبَطْنًا وَقَدْ عَلِمَتْ أَنَّهَا تُقْتَلُ " .
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` بنی قریظہ کی عورتوں میں سے کوئی بھی عورت نہیں قتل کی گئی سوائے ایک عورت کے جو میرے پاس بیٹھ کر اس طرح باتیں کر رہی تھی اور ہنس رہی تھی کہ اس کی پیٹھ اور پیٹ میں بل پڑ جا رہے تھے ، اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مردوں کو تلوار سے قتل کر رہے تھے ، یہاں تک کہ ایک پکارنے والے نے اس کا نام لے کر پکارا : فلاں عورت کہاں ہے ؟ وہ بولی : میں ہوں ، میں نے پوچھا : تجھ کو کیا ہوا کہ تیرا نام پکارا جا رہا ہے ، وہ بولی : میں نے ایک نیا کام کیا ہے ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پھر وہ پکارنے والا اس عورت کو لے گیا اور اس کی گردن مار دی گئی ، اور میں اس تعجب کو اب تک نہیں بھولی جو مجھے اس کے اس طرح ہنسنے پر ہو رہا تھا کہ اس کی پیٹھ اور پیٹ میں بل پڑ پڑ جا رہے تھے ، حالانکہ اس کو معلوم ہو گیا تھا کہ وہ قتل کر دی جائے گی ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بنی قریظہ کی عورتوں میں سے کوئی بھی عورت نہیں قتل کی گئی سوائے ایک عورت کے جو میرے پاس بیٹھ کر اس طرح باتیں کر رہی تھی اور ہنس رہی تھی کہ اس کی پیٹھ اور پیٹ میں بل پڑ جا رہے تھے، اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مردوں کو تلوار سے قتل کر رہے تھے، یہاں تک کہ ایک پکارنے والے نے اس کا نام لے کر پکارا: فلاں عورت کہاں ہے؟ وہ بولی: میں ہوں، میں نے پوچھا: تجھ کو کیا ہوا کہ تیرا نام پکارا جا رہا ہے، وہ بولی: میں نے ایک نیا کام کیا ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر وہ پکارنے والا اس عورت کو لے گیا اور اس کی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2671]
علامہ خطابی فرماتے ہیں۔
کہ اس عورت نے نبی کریمﷺ کو گالی دی تھی۔
اس وجہ سے اسے قتل کیا گیا تھا۔
اور شاتم رسول ﷺ کی یہی سزا ہے۔