سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي قَتْلِ النِّسَاءِ باب: عورتوں کے قتل کی ممانعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْمُرَقَّعِ بْنِ صَيْفِيِّ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّهِ رَبَاحِ بْنِ رَبِيعٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ فَرَأَى النَّاسَ مُجْتَمِعِينَ عَلَى شَيْءٍ ، فَبَعَثَ رَجُلًا فَقَالَ : انْظُرْ عَلَامَ اجْتَمَعَ هَؤُلَاءِ ؟ فَجَاءَ فَقَالَ : عَلَى امْرَأَةٍ قَتِيلٍ ، فَقَالَ : مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُقَاتِلَ قَالَ : وَعَلَى الْمُقَدِّمَةِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، فَبَعَثَ رَجُلًا فَقَالَ : قُلْ لِخَالِدٍ لَا يَقْتُلَنَّ امْرَأَةً وَلَا عَسِيفًا .
´رباح بن ربیع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، آپ نے دیکھا کہ لوگ کسی چیز کے پاس اکٹھا ہیں تو ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا : ” جاؤ ، دیکھو یہ لوگ کس چیز کے پاس اکٹھا ہیں “ ، وہ دیکھ کر آیا اور اس نے بتایا کہ لوگ ایک مقتول عورت کے پاس اکٹھا ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تو ایسی نہیں تھی کہ قتال کرے “ ۱؎ ، مقدمۃ الجیش ( فوج کے اگلے حصہ ) پر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مقرر تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس کہلا بھیجا کہ وہ ہرگز کسی عورت کو نہ ماریں اور نہ کسی مزدور کو ۲؎ ۔
۲؎: یہاں مزدور سے مراد وہ مزدور ہے جو لڑتا نہ ہو صرف خدمت کے لئے ہو۔
تشریح، فوائد و مسائل
رباح بن ربیع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے دیکھا کہ لوگ کسی چیز کے پاس اکٹھا ہیں تو ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا: ” جاؤ، دیکھو یہ لوگ کس چیز کے پاس اکٹھا ہیں “، وہ دیکھ کر آیا اور اس نے بتایا کہ لوگ ایک مقتول عورت کے پاس اکٹھا ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ تو ایسی نہیں تھی کہ قتال کرے “ ۱؎، مقدمۃ الجیش (فوج کے اگلے حصہ) پر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مقرر تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس کہلا بھیجا کہ وہ ہرگز کسی عورت کو نہ ماریں اور نہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2669]
1۔
اگر عورت کا قتال میں کوئی عمل دخل نہ ہو تو اس کا قتل جائز نہیں۔
لیکن اگر ثابت ہو کہ وہ کوئی کردار ادا کرتی ہے تو قتل کرنا جائز ہوگا۔
اور یہی حکم گھریلو قسم کے ملازمین اور بوڑھے لوگوں کا ہے۔
2۔
حدیث میں لفظ مقدمہ مذکور ہے۔
لغت میں مقدمہ کسی بھی چیز کے اگلے حصے کو کہتےہیں۔
تو یہاں سے اس سے مراد فوج کا ہر اول دستہ ہے جو آگے آگے چلتا ہے۔