حدیث نمبر: 2667
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ الْهَيَّاجِ بْنِ عِمْرَانَ ، أَنَّ عِمْرَانَ أَبَقَ لَهُ غُلَامٌ ، فَجَعَلَ لِلَّهِ عَلَيْهِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَيْهِ لَيَقْطَعَنَّ يَدَهُ ، فَأَرْسَلَنِي لِأَسْأَلَ لَهُ ، فَأَتَيْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُثُّنَا عَلَى الصَّدَقَةِ وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ ، فَأَتَيْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُثُّنَا عَلَى الصَّدَقَةِ وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ہیاج بن عمران برجمی سے روایت ہے کہ` عمران ( یعنی : ہیاج کے والد ) کا ایک غلام بھاگ گیا تو انہوں نے اللہ کے لیے اپنے اوپر لازم کر لیا کہ اگر وہ اس پر قادر ہوئے تو ضرور بالضرور اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے ، پھر انہوں نے مجھے اس کے متعلق مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا ، میں نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر ان سے پوچھا ، تو انہوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ پر ابھارتے تھے اور مثلہ ۱؎ سے روکتے تھے ، پھر میں عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے ( بھی ) پوچھا : تو انہوں نے ( بھی ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ پر ابھارتے تھے اور مثلہ سے روکتے تھے ۔

وضاحت:
۱؎: مقتول کے اعضاء کاٹ کر اس کی شکل و صورت کو بگاڑ دینے کو مثلہ کہا جاتا ہے، مثلہ کا عمل درست نہیں ہے البتہ اگر کسی کافر نے کسی مقتول مسلم کا مثلہ کیا ہے تو اس کے بدلہ میں اس کا مثلہ کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرینیوں کے ساتھ کیا تھا، اسی طرح اگر کسی مسلمان نے کسی مسلمان کے ساتھ مثلہ کیا ہے تو بطور قصاص اس کے ساتھ بھی ویسا ہی کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2667
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قتادة مدلس وعنعن, وحديث أحمد (5/ 20) يغني عن ھذا الحديث, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 97
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4637، 10867)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/428، 429)، سنن الدارمی/الزکاة 24 (1697) (صحیح) » (متابعت سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ ہیاج لین الحدیث ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مثلہ (ناک، کان کاٹنے) کی ممانعت کا بیان۔`
ہیاج بن عمران برجمی سے روایت ہے کہ عمران (یعنی: ہیاج کے والد) کا ایک غلام بھاگ گیا تو انہوں نے اللہ کے لیے اپنے اوپر لازم کر لیا کہ اگر وہ اس پر قادر ہوئے تو ضرور بالضرور اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے، پھر انہوں نے مجھے اس کے متعلق مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا، میں نے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ پر ابھارتے تھے اور مثلہ ۱؎ سے روکتے تھے، پھر میں عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے (بھی) پوچھا: تو انہوں نے (بھی) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں صدقہ پر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2667]
فوائد ومسائل:
مقتول کو قتل کرنے کے بعد اس کے اعضاء کاٹنا یا اس کی شکل بگاڑنا ناجائز ہے۔
اور ایسے ہی قتل سے پہلے بھی یہ عمل ناجائز ہے۔
الا یہ کہ قصاص کی کوئی صورت ہو۔
جیسے قبیلہ عکل وعرینہ کے لوگوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2667 سے ماخوذ ہے۔