سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي النَّهْىِ عَنِ الْمُثْلَةِ باب: مثلہ (ناک، کان کاٹنے) کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2666
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ ، عَنْ شِبَاكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هُنَيِّ بْنِ نُوَيْرَةَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعَفُّ النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلُ الْإِيمَانِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں میں سب سے بہتر قتل کرنے والے صاحب ایمان لوگ ہیں ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی وہ قتل اچھے طریقے سے کرتے ہیں زیادتی نہیں کرتے مثلاً مثلہ وغیرہ نہیں کرتے۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2682 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´قاتلوں میں اہل ایمان کے سب سے بہتر ہونے کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قتل کے مسئلہ میں اہل ایمان سب سے پاکیزہ لوگ ہیں “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2682]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قتل کے مسئلہ میں اہل ایمان سب سے پاکیزہ لوگ ہیں “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2682]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ دونوں روایتیں اکثر محققین کے نزدیک ضعیف ہیں، تاہم صحیح مسلم میں اسی مفہوم کی روایت موجود ہے جس میں رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔
آدمی کو چاہیے کہ اپنی چھری تیز کرے، اور ذبح ہوتے والے جانور کو راحت پہنچائے (ممکن حد تک کم سے کم تکلیف پہنچائے۔‘‘
) (صحیح مسلم، الصید والذبائج، باب الأمر بأحسان الذبح والقتل، وتحدید الشفرۃ، حدیث: 1955، وسنن ابن ماجة، حدیث: 3170)
فوائد و مسائل:
مذکورہ دونوں روایتیں اکثر محققین کے نزدیک ضعیف ہیں، تاہم صحیح مسلم میں اسی مفہوم کی روایت موجود ہے جس میں رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔
آدمی کو چاہیے کہ اپنی چھری تیز کرے، اور ذبح ہوتے والے جانور کو راحت پہنچائے (ممکن حد تک کم سے کم تکلیف پہنچائے۔‘‘
) (صحیح مسلم، الصید والذبائج، باب الأمر بأحسان الذبح والقتل، وتحدید الشفرۃ، حدیث: 1955، وسنن ابن ماجة، حدیث: 3170)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2682 سے ماخوذ ہے۔