حدیث نمبر: 2658
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ : لَمَّا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَانْكَشَفُوا نَزَلَ عَنْ بَغْلَتِهِ فَتَرَجَّلَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حنین کے دن مشرکوں سے مڈبھیڑ ہوئی تو وہ چھٹ گئے ( یعنی شکست کھا کر ادھر ادھر بھاگ کھڑے ہوئے ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر سے اتر کر پیدل چلنے لگے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2658
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (3042) صحيح مسلم (1776)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1820)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجھاد 15 (1688) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مڈبھیڑ کے وقت سواری سے اتر کر پیدل چلنے کا بیان۔`
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حنین کے دن مشرکوں سے مڈبھیڑ ہوئی تو وہ چھٹ گئے (یعنی شکست کھا کر ادھر ادھر بھاگ کھڑے ہوئے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر سے اتر کر پیدل چلنے لگے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2658]
فوائد ومسائل:
مجاہد دوران جہاد میں حسب احوال کوئی انداز بھی اختیار کرے روا ہے۔
اور نبی ﷺ سب مسلمانوں سے بڑھ کر بہادر دلیر اور عزم وثبات کے پیکرتھے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2658 سے ماخوذ ہے۔