حدیث نمبر: 2655
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ النُّعْمَانَ يَعْنِي ابْنَ مُقَرِّنٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ أَخَّرَ الْقِتَالَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ وَتَهُبَّ الرِّيَاحُ وَيَنْزِلَ النَّصْرُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( لڑائی میں ) شریک رہا آپ جب صبح کے وقت جنگ نہ کرتے تو قتال ( لڑائی ) میں دیر کرتے یہاں تک کہ آفتاب ڈھل جاتا ، ہوا چلنے لگتی اور مدد نازل ہونے لگتی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2655
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (3933), أخرجه الترمذي (1613 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الجزیة 1 (3160)، سنن الترمذی/السیر 46 (1613)، (تحفة الأشراف: 11647)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/444) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دشمن سے لڑائی کس وقت بہتر ہے؟`
نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (لڑائی میں) شریک رہا آپ جب صبح کے وقت جنگ نہ کرتے تو قتال (لڑائی) میں دیر کرتے یہاں تک کہ آفتاب ڈھل جاتا، ہوا چلنے لگتی اور مدد نازل ہونے لگتی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2655]
فوائد ومسائل:
سورج ڈھلنے کا وقت اللہ کی طرف سے نزول نصرت کا وقت ہوتا ہے۔
اس وقت میں قتال شروع کرنا مستحب ہے۔
اس لئے ظہر کی نماز اول وقت میں پڑھنی مسنون ہے۔
اور راحج ہے۔
آپﷺ سے اس وقت چار رکعت نفل پڑھنا بھی وارد ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2655 سے ماخوذ ہے۔