سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي الْجَاسُوسِ الْمُسْتَأْمَنِ باب: جو کافر امن لے کر مسلمانوں میں جاسوسی کے لیے آیا ہو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2653
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا ، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، عَنْ ابْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَيْنٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَهُوَ فِي سَفَرٍ فَجَلَسَ عِنْدَ أَصْحَابِهِ ثُمَّ انْسَلَّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اطْلُبُوهُ فَاقْتُلُوهُ " ، قَالَ : فَسَبَقْتُهُمْ إِلَيْهِ فَقَتَلْتُهُ وَأَخَذْتُ سَلَبَهُ فَنَفَّلَنِي إِيَّاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشرکوں میں سے ایک جاسوس آیا ، آپ سفر میں تھے ، وہ آپ کے اصحاب کے پاس بیٹھا رہا ، پھر چپکے سے فرار ہو گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کو تلاش کر کے قتل کر ڈالو “ ، سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : سب سے پہلے میں اس کے پاس پہنچا اور جا کر اسے قتل کر دیا اور اس کا مال لے لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بطور نفل ( انعام ) مجھے دیدیا ۔