سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي حُكْمِ الْجَاسُوسِ إِذَا كَانَ مُسْلِمًا باب: جاسوس اگر مسلمان ہو اور کافروں کے لیے جاسوسی کرے تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2651
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ : انْطَلَقَ حَاطِبٌ فَكَتَبَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَارَ إِلَيْكُمْ وَقَالَ : " فِيهِ ، قَالَتْ : مَا مَعِي كِتَابٌ ، فَانْتَحَيْنَاهَا فَمَا وَجَدْنَا مَعَهَا كِتَابًا فَقَالَ عَلِيٌّ : وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ لَأَقْتُلَنَّكِ أَوْ لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ " ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی علی رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے ، اس میں ہے کہ` حاطب بن ابی بلتعہ نے اہل مکہ کو لکھ بھیجا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے اوپر حملہ کرنے والے ہیں ، اس روایت میں یہ بھی ہے کہ وہ عورت بولی : ” میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے “ ، ہم نے اس کا اونٹ بٹھا کر دیکھا تو اس کے پاس ہمیں کوئی خط نہیں ملا ، علی رضی اللہ عنہ نے کہا : قسم ہے اس ذات کی جس کی قسم کھائی جاتی ہے ! میں تجھے قتل کر ڈالوں گا ، ورنہ خط مجھے نکال کر دے ، پھر پوری حدیث ذکر کی ۔