حدیث نمبر: 2648
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : نَزَلَتْ فِي يَوْمِ بَدْرٍ وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ سورة الأنفال آية 16 .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` «ومن يولهم يومئذ دبره» ۱؎ بدر کے دن نازل ہوئی ۔

وضاحت:
۱؎: پوری آیت اس طرح ہے «إلا متحرفا لقتال أو متحيزا إلى فئة فقد باء بغضب من الله» (سورۃ الانفال: ۱۶) ’’ جو شخص لڑائی سے اپنی پیٹھ موڑے گا، مگر ہاں جو لڑائی کے لئے پینترا بدلتا ہو یا اپنی جماعت کی طرف پناہ لینے آتا ہو وہ مستثنی ہے باقی جو ایسا کر ے گا وہ اللہ کے غضب میں آ جائیگا ‘‘، حدیث میں مذکور ہے لوگوں نے خود کو اس آیت کا مصداق سمجھ لیا تھا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مستثنی لوگوں میں سے قرار دیا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2648
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4316) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جانے کا بیان۔`
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ «ومن يولهم يومئذ دبره» ۱؎ بدر کے دن نازل ہوئی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2648]
فوائد ومسائل:
یہ سند سنن ابی دائود کے بعض نسخوں میں نہیں ہے۔
کیونکہ بظاہر اس کا محل کتاب کا آغاذ ہے۔
بہرحال یہ امام ابو دائود کی سند ہے۔
جو آغاز کے بجائے کتاب کے درمیان میں آگئی ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2648 سے ماخوذ ہے۔