حدیث نمبر: 2639
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ شَوْكَرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُمْ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّفُ فِي الْمَسِيرِ ، فَيُزْجِي الضَّعِيفَ وَيُرْدِفُ وَيَدْعُو لَهُمْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں ساقہ ( لشکر کے پچھلے دستہ ) کے ساتھ رہا کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کمزوروں کو ساتھ لیتے ، انہیں اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیتے اور ان کے لیے دعا کرتے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2639
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (3913), أخرجه الحاكم (2/115) أبو الزبير صرح بالسماع عنده
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2683) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´امام کا لشکر کے پچھلے دستہ کے ساتھ رہنے کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں ساقہ (لشکر کے پچھلے دستہ) کے ساتھ رہا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کمزوروں کو ساتھ لیتے، انہیں اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیتے اور ان کے لیے دعا کرتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2639]
فوائد ومسائل:
لشکر کا آخری اور پچھلا جتھہ جس میں بالعموم ضعیف بیمار اور مجروح (زخمی) لوگ ہوتے ہیں۔
ساقہ کہلاتا ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2639 سے ماخوذ ہے۔