سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب الْمَكْرِ فِي الْحَرْبِ باب: جنگ میں حیلہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2637
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ غَزْوَةً وَرَّى غَيْرَهَا ، وَكَانَ يَقُولُ : " الْحَرْبُ خَدْعَةٌ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : لَمْ يَجِئْ بِهِ إِلَّا مَعْمَرٌ يُرِيدُ قَوْلَهُ الْحَرْبُ خَدْعَةٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِنَّمَا يُرْوَى مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَمِنْ حَدِيثِ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوہ کا ارادہ کرتے تو جس سمت جانا ہوتا اس کے علاوہ کا توریہ ۱؎ کرتے اور فرماتے : ” جنگ دھوکہ کا نام ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے معمر کے سوا کسی اور نے اس سند سے نہیں روایت کیا ہے ، وہ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «الحرب خدعة» کو مراد لے رہے ہیں ، یہ لفظ صرف عمرو بن دینار کے واسطے سے جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے یا معمر کے واسطے سے ہمام بن منبہ سے مروی ہے جسے وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی مشرق کی طرف نکلنا ہوتا تو مغرب کا اشارہ کرتے، اور شمال کی طرف نکلنا ہوتا تو جنوب کا اشارہ کرتے، اصل بات چھپا کر دوسری بات ظاہر کرنا، یہی توریہ ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جنگ میں حیلہ کرنے کا بیان۔`
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوہ کا ارادہ کرتے تو جس سمت جانا ہوتا اس کے علاوہ کا توریہ ۱؎ کرتے اور فرماتے: ” جنگ دھوکہ کا نام ہے۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے معمر کے سوا کسی اور نے اس سند سے نہیں روایت کیا ہے، وہ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «الحرب خدعة» کو مراد لے رہے ہیں، یہ لفظ صرف عمرو بن دینار کے واسطے سے جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے یا معمر کے واسطے سے ہمام بن منبہ سے مروی ہے جسے وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2637]
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوہ کا ارادہ کرتے تو جس سمت جانا ہوتا اس کے علاوہ کا توریہ ۱؎ کرتے اور فرماتے: ” جنگ دھوکہ کا نام ہے۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے معمر کے سوا کسی اور نے اس سند سے نہیں روایت کیا ہے، وہ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «الحرب خدعة» کو مراد لے رہے ہیں، یہ لفظ صرف عمرو بن دینار کے واسطے سے جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے یا معمر کے واسطے سے ہمام بن منبہ سے مروی ہے جسے وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2637]
فوائد ومسائل:
جنگ میں صرف تیر وتفنگ ہی کام نہیں آتا۔
بلکہ حکمت تدبیر اور چال سبھی امور کام دیتے ہیں۔
تاہم یہ ضرور ہے کہ دشمن سے قبل از جنگ یا بعد از جنگ جو عہد معاہدہ ہوجائے اس میں دھوکا کرنا حرام ہے۔
جنگ میں صرف تیر وتفنگ ہی کام نہیں آتا۔
بلکہ حکمت تدبیر اور چال سبھی امور کام دیتے ہیں۔
تاہم یہ ضرور ہے کہ دشمن سے قبل از جنگ یا بعد از جنگ جو عہد معاہدہ ہوجائے اس میں دھوکا کرنا حرام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2637 سے ماخوذ ہے۔