سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي دُعَاءِ الْمُشْرِكِينَ باب: لڑائی کے وقت کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2635
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ ، عَنْ ابْنِ عِصَامٍ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَقَالَ : " إِذَا رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا فَلَا تَقْتُلُوا أَحَدًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عصام مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک سریہ میں بھیجا اور فرمایا : ” جب تم کوئی مسجد دیکھنا ، یا کسی مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سننا تو کسی کو قتل نہ کرنا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1549 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جہاد سے متعلق ایک اور باب۔`
عصام مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر یا سریہ بھیجتے تو ان سے فرماتے: ” جب تم کوئی مسجد دیکھو یا مؤذن کی آواز سنو تو کسی کو نہ مارو “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1549]
عصام مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر یا سریہ بھیجتے تو ان سے فرماتے: ” جب تم کوئی مسجد دیکھو یا مؤذن کی آواز سنو تو کسی کو نہ مارو “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1549]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی جب اسلام کی کوئی علامت اورنشانی نظر آجائے تواس وقت تک حملہ نہ کیاجائے جب تک مومن اور کافر کے درمیان فرق واضح نہ ہوجائے۔
نوٹ:
(سند میں ’’عبد الملک بن نوفل‘‘ لین الحدیث، اور ’’ابن عصام‘‘ مجہول راوی ہیں)
وضاحت:
1؎:
یعنی جب اسلام کی کوئی علامت اورنشانی نظر آجائے تواس وقت تک حملہ نہ کیاجائے جب تک مومن اور کافر کے درمیان فرق واضح نہ ہوجائے۔
نوٹ:
(سند میں ’’عبد الملک بن نوفل‘‘ لین الحدیث، اور ’’ابن عصام‘‘ مجہول راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1549 سے ماخوذ ہے۔