سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب مَا يُؤْمَرُ مِنَ انْضِمَامِ الْعَسْكَرِ وَسِعَتِهِ باب: لشکر کو اکٹھا رکھنے اور دوسروں کے لیے جگہ چھوڑنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 2629
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخَثْعَمِيِّ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُجَاهِدٍ اللَّخْمِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ كَذَا وَكَذَا ، فَضَيَّقَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ وَقَطَعُوا الطَّرِيقَ ، فَبَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنَادِي فِي النَّاسِ " أَنَّ مَنْ ضَيَّقَ مَنْزِلًا أَوْ قَطَعَ طَرِيقًا فَلَا جِهَادَ لَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذ بن انس جھنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فلاں اور فلاں غزوہ کیا تو لوگوں نے پڑاؤ کی جگہ کو تنگ کر دیا اور راستے مسدود کر دیئے ۱؎ تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کو بھیجا جو لوگوں میں اعلان کر دے کہ جس نے پڑاؤ کی جگہیں تنگ کر دیں ، یا راستہ مسدود کر دیا تو اس کا جہاد نہیں ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی بلا ضرورت زیادہ جگہیں گھیر کر بیٹھ گئے اور دوسروں پر راستہ تنگ کر دیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´لشکر کو اکٹھا رکھنے اور دوسروں کے لیے جگہ چھوڑنے کا حکم۔`
معاذ بن انس جھنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فلاں اور فلاں غزوہ کیا تو لوگوں نے پڑاؤ کی جگہ کو تنگ کر دیا اور راستے مسدود کر دیئے ۱؎ تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کو بھیجا جو لوگوں میں اعلان کر دے کہ جس نے پڑاؤ کی جگہیں تنگ کر دیں، یا راستہ مسدود کر دیا تو اس کا جہاد نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2629]
معاذ بن انس جھنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فلاں اور فلاں غزوہ کیا تو لوگوں نے پڑاؤ کی جگہ کو تنگ کر دیا اور راستے مسدود کر دیئے ۱؎ تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کو بھیجا جو لوگوں میں اعلان کر دے کہ جس نے پڑاؤ کی جگہیں تنگ کر دیں، یا راستہ مسدود کر دیا تو اس کا جہاد نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2629]
فوائد ومسائل:
1۔
زندگی کے تمام معاملات میں اور اس کے رسولﷺ کی ساتھ ساتھ عام مسلمانوں ہمجولیوں اور ساتھیوں کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرنا واجب ہے۔
2۔
واضح بنیادی امور سے صرف نظر کرنے کے باعث نیکی کے عظیم کام بھی بے وقعت ہوجاتے ہیں۔
بالخصوص ر استے کا حق ادا نہ کرنا بہت بڑا جرم ہے۔
1۔
زندگی کے تمام معاملات میں اور اس کے رسولﷺ کی ساتھ ساتھ عام مسلمانوں ہمجولیوں اور ساتھیوں کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرنا واجب ہے۔
2۔
واضح بنیادی امور سے صرف نظر کرنے کے باعث نیکی کے عظیم کام بھی بے وقعت ہوجاتے ہیں۔
بالخصوص ر استے کا حق ادا نہ کرنا بہت بڑا جرم ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2629 سے ماخوذ ہے۔