حدیث نمبر: 2627
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ مِنْ رَهْطِهِ ، قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَسَلَحْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ سَيْفًا ، فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ : لَوْ رَأَيْتَ مَا لَامَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَعَجَزْتُمْ إِذْ بَعَثْتُ رَجُلًا مِنْكُمْ ، فَلَمْ يَمْضِ لِأَمْرِي أَنْ تَجْعَلُوا مَكَانَهُ مَنْ يَمْضِي لِأَمْرِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ ( دستہ ) بھیجا ، میں نے ان میں سے ایک شخص کو تلوار دی ، جب وہ لوٹ کر آیا تو کہنے لگا : کاش آپ وہ دیکھتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ملامت کی ہے ، آپ نے فرمایا : ” کیا تم سے یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ جب میں نے ایک شخص کو بھیجا اور وہ میرا حکم بجا نہیں لایا تو تم اس کے بدلے کسی ایسے شخص کو مقرر کر دیتے جو میرا حکم بجا لاتا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´امیر لشکر کی اطاعت کا بیان۔`
عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ (دستہ) بھیجا، میں نے ان میں سے ایک شخص کو تلوار دی، جب وہ لوٹ کر آیا تو کہنے لگا: کاش آپ وہ دیکھتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ملامت کی ہے، آپ نے فرمایا: ” کیا تم سے یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ جب میں نے ایک شخص کو بھیجا اور وہ میرا حکم بجا نہیں لایا تو تم اس کے بدلے کسی ایسے شخص کو مقرر کر دیتے جو میرا حکم بجا لاتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2627]
عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ (دستہ) بھیجا، میں نے ان میں سے ایک شخص کو تلوار دی، جب وہ لوٹ کر آیا تو کہنے لگا: کاش آپ وہ دیکھتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ملامت کی ہے، آپ نے فرمایا: ” کیا تم سے یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ جب میں نے ایک شخص کو بھیجا اور وہ میرا حکم بجا نہیں لایا تو تم اس کے بدلے کسی ایسے شخص کو مقرر کر دیتے جو میرا حکم بجا لاتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2627]
فوائد ومسائل:
یہ حدیث حسن درجے کی ہے۔
اور اس میں ہے کہ جب کوئی امیر یا حاکم شریعت کی تنفیذ نہ کر رہا ہو۔
یا اس کی مخالفت کرتا ہو۔
اور اس کو بدلنا ممکن ہو تو اس کو بدل کر دوسرا آدمی مقرر کرلیا جائے۔
جو انہیں شریعت کے مطابق لے کر چلے۔
یہ حدیث حسن درجے کی ہے۔
اور اس میں ہے کہ جب کوئی امیر یا حاکم شریعت کی تنفیذ نہ کر رہا ہو۔
یا اس کی مخالفت کرتا ہو۔
اور اس کو بدلنا ممکن ہو تو اس کو بدل کر دوسرا آدمی مقرر کرلیا جائے۔
جو انہیں شریعت کے مطابق لے کر چلے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2627 سے ماخوذ ہے۔