سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي ابْنِ السَّبِيلِ يَأْكُلُ مِنَ التَّمْرِ وَيَشْرَبُ مِنَ اللَّبَنِ إِذَا مَرَّ بِهِ باب: مسافر کھجور کے باغات یا دودھ والے جانوروں کے پاس سے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، قَالَ : أَصَابَتْنِي سَنَةٌ فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ ، فَفَرَكْتُ سُنْبُلًا فَأَكَلْتُ ، وَحَمَلْتُ فِي ثَوْبِي ، فَجَاءَ صَاحِبُهُ فَضَرَبَنِي وَأَخَذَ ثَوْبِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ : مَا عَلَّمْتَ إِذْ كَانَ جَاهِلًا ، وَلَا أَطْعَمْتَ إِذْ كَانَ جَائِعًا ، أَوْ قَالَ : سَاغِبًا وَأَمَرَهُ فَرَدَّ عَلَيَّ ثَوْبِي وَأَعْطَانِي وَسْقًا أَوْ نِصْفَ وَسْقٍ مِنْ طَعَامٍ .
´عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھے قحط نے ستایا تو میں مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ میں گیا اور کچھ بالیاں توڑیں ، انہیں مل کر کھایا ، اور ( باقی ) اپنے کپڑے میں باندھ لیا ، اتنے میں اس کا مالک آ گیا ، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ( اور آپ سے سارا ماجرا بتایا ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک سے فرمایا : ” تم نے اسے بتایا نہیں جب کہ وہ جاہل تھا اور نہ کھلایا ہی جب کہ وہ بھوکا تھا “ ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا اس نے میرا کپڑا واپس کر دیا اور ایک وسق ( ساٹھ صاع ) یا نصف وسق ( تیس صاع ) غلہ مجھے دیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوبشر جعفر بن أبی ایاس کہتے ہیں میں نے عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ جو بنی غبر کے ایک فرد ہیں کو کہتے سنا کہ ایک سال قحط ہوا تو میں مدینہ آیا، وہاں اس کے باغوں میں سے ایک باغ میں گیا، اور اناج کی ایک بالی اٹھا لی، اور مل کر اس میں سے کچھ کھایا، اور کچھ اپنے کپڑے میں رکھ لیا، اتنے میں باغ کا مالک آ گیا، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باغ والے سے کہا: ” تم نے اس کو کھانا نہیں کھلایا جبکہ یہ بھوکا تھا، اور نہ ت۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2298]
فوائد و مسائل: (1)
ضرورت مند کسی کے کھیت یا باغ سے ضرورت کے مطابق تھوڑا بہت لے سکتا ہے، البتہ اتنا زیادہ لے لینا درست نہیں جو ساتھ لے جائے۔
(2)
غلطی کرنے والے کے حالات معلوم کر لیے جائیں تو اس کے ساتھ صحیح رویہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
(3)
نبی اکرم ﷺ نے کھیت کے مالک کو سزا نہیں دی کیونکہ وہ حق پر تھا لیکن اس کے طرز عمل کو غلط قرار دیا۔
(4)
غلطی کرنے والے کو صحیح عمل بھی بتانا چاہیے۔
نبی ﷺ نے واضح فرمایا کہ بھوکے آدمی کےساتھ کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے تھا اور اس کا کپڑا بھی واپس دلوایا۔
(5)
مستحق آدمی کی مدد بیت المال سے کی جانی چاہیے۔
(6)
کسی کی تھوڑی بہت چیز بلااجازت لے لینا اس چوری میں شامل نہیں جس کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے۔
اس پر مناسب تعزیر کافی ہے اور خاص حالات میں معاف بھی کیا جا سکتا ہے۔
عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے چچاؤں کے ساتھ مدینے آیا تو وہاں کے ایک باغ میں گیا اور ایک بالی (توڑ کر) مسل ڈالی، اتنے میں باغ کا مالک آ گیا، اس نے میری چادر چھین لی اور مجھے مارا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اس کے خلاف مدد چاہی، چنانچہ آپ نے اس شخص کو بلا بھیجا۔ لوگ اسے لے کر آئے، آپ نے فرمایا: ” اس اقدام پر تمہیں کس چیز نے اکسایا؟ “ وہ بولا: اللہ کے رسول! یہ میرے باغ میں آیا اور۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5411]
(2) ”جاہل تھا“ مقصود یہ ہے کہ غلطی کرنے والے کو صحیح اور درست عمل بتانا چاہیے تھا، اجنبی تھا پھر بھوکا بھی تھا، اس لیے تجھے چاہیے تھا کہ اسے پیار کے ساتھ بتاتا کہ اس طرح اپنی مرضی سے توڑنے کی بجائے مالک سے مانگ لینا چاہیے۔ پھر تو اسے کھانے کو مزید دیتا تاکہ اس کی ضرورت پوری ہوتی جب کہ تو نے اس غریب کی چادر بھی چھین لی اور مارا بھی۔
(3) معلوم ہوا جرائم کی سزا دینے سے پہلے لوگوں کی تعلیم و تربیت ضروری ہے، نیز ان کی بنیادی ضروریات بھی پوری کی جائیں تاکہ وہ جان بچانے کے لیے جرم نہ کریں۔
(4) اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ضرورت مند، بقدر ضرورت کسی کے باغ یا کھیت سے لے اور کھا سکتا ہے، البتہ اتنا زیادہ لینا درست نہیں جو ضرورت پوری ہونے کے بعد ساتھ بھی لے جائے۔ یاد رہے کہ بغیر اجازت کسی کے باغ سے کھا پی لینا ایسا جرم نہیں کہ اس پر چوری کی حد نافذ ہو بلکہ اگر وہ بھوکا ہو تو اسے کچھ نہیں کہا جائے گا اور اگر وہ بھوک کے بغیر ہو تو سے جرمانہ وغیرہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر ضرورت محسوس ہو تو جسمانی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔
(5) ”حکم جاری فرمایا“ یعنی بیت المال سے نہ کہ اس آدمی کے مال سے۔ ابو داؤد کی روایت میں صراحت ہے کہ آپ نے غلے کا ایک یا نصف وسق مجھے عطا فرمایا۔ (سنن أبي داؤد، الجهاد، حدیث: 2620)
(6) ایک اونٹ پر جتنا غلہ لادا جاتا ہے، اسے بھی وسق کہتے ہیں۔
(7) کسی کی تھوڑی بہت چیز بلا اجازت لے لینا اس چوری میں شامل نہیں جس کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے۔ اس پر مناسب تعزیر ہی کافی ہے، البتہ بلا اجازت کسی کا مال لینے والے سے پہلے اس کا سبب معلوم کرنا چاہیے اور اگر اس کا کوئی معقول عذر ہو تو پھر اسے معاف کردینا چاہیے کیونکہ بعض حالات اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ان میں معافی ہی درست ہوتی ہے۔
(8) اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایسے مستحق شخص کی مدد بیت المال اور حکومتی خزانے سے کرنی چاہیے۔ یہ اس کا حق ہے۔