سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِيمَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْجُيُوشِ وَالرُّفَقَاءِ وَالسَّرَايَا باب: چھوٹے بڑے لشکر، اور ساتھیوں کی کون سی تعداد مستحب و مناسب ہے۔
حدیث نمبر: 2611
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ يُونُسَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ،عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَيْرُ الصَّحَابَةِ أَرْبَعَةٌ ، وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُ مِائَةٍ ، وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ ، وَلَنْ يُغْلَبَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ مُرْسَلٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بہتر ساتھی وہ ہیں جن کی تعداد چار ہو ۱؎ ، اور چھوٹی فوج میں بہتر فوج وہ ہے جس کی تعداد چار سو ہو ، اور بڑی فوجوں میں بہتر وہ فوج ہے جس کی تعداد چار ہزار ہو ، اور بارہ ہزار کی فوج قلت تعداد کی وجہ سے ہرگز مغلوب نہیں ہو گی ۲؎ “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : صحیح یہ ہے کہ یہ مرسل ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی کم سے کم چار ہو کیونکہ ان میں سے اگر کبھی کوئی بیمار ہو اور وہ اپنے کسی ساتھی کو وصیت کرنا چاہے تو گواہی کے لئے ان میں سے دو باقی رہ جائیں، اس حدیث میں (بشرط صحت) مرتبہ أقل کا بیان ہے علماء نے لکھا ہے: چار سے پانچ بہتر ہیں بلکہ جس قدر زیادہ ہوں گے اتنا ہی خیر ہو گا۔
۲؎: بارہ ہزار کا لشکر اپنی قلت کے سبب ہرگز نہیں ہارے گا، اب اگر دوسری قومیں اس پر غالب آ گئیں تو اس ہار کا سبب قلت نہیں بلکہ لشکر کا عجب و غرور میں مبتلا ہونا یا اسی طرح کا کوئی اور دوسرا سبب ہو سکتا ہے۔
۲؎: بارہ ہزار کا لشکر اپنی قلت کے سبب ہرگز نہیں ہارے گا، اب اگر دوسری قومیں اس پر غالب آ گئیں تو اس ہار کا سبب قلت نہیں بلکہ لشکر کا عجب و غرور میں مبتلا ہونا یا اسی طرح کا کوئی اور دوسرا سبب ہو سکتا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´چھوٹے بڑے لشکر، اور ساتھیوں کی کون سی تعداد مستحب و مناسب ہے۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بہتر ساتھی وہ ہیں جن کی تعداد چار ہو ۱؎، اور چھوٹی فوج میں بہتر فوج وہ ہے جس کی تعداد چار سو ہو، اور بڑی فوجوں میں بہتر وہ فوج ہے جس کی تعداد چار ہزار ہو، اور بارہ ہزار کی فوج قلت تعداد کی وجہ سے ہرگز مغلوب نہیں ہو گی ۲؎۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: صحیح یہ ہے کہ یہ مرسل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2611]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بہتر ساتھی وہ ہیں جن کی تعداد چار ہو ۱؎، اور چھوٹی فوج میں بہتر فوج وہ ہے جس کی تعداد چار سو ہو، اور بڑی فوجوں میں بہتر وہ فوج ہے جس کی تعداد چار ہزار ہو، اور بارہ ہزار کی فوج قلت تعداد کی وجہ سے ہرگز مغلوب نہیں ہو گی ۲؎۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: صحیح یہ ہے کہ یہ مرسل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2611]
فوائد ومسائل:
تعداد جس قدر زیادہ ہوگی۔
برکت اور فائدہ زیادہ ہوگا۔
مسلمانوں کو بارہ ہزار کی تعداد اگر کہیں شکست کھائے گی۔
تواس کا سبب قلت تعداد نہیں بلکہ کوئی اور سبب ہوگا۔
مثلا عدم تقویٰ۔
تکبر۔
غرور اور بذدلی وغیرہ تاہم یہ روایت مرسل ہے جو محدثین کے نزدیک ضعیف ہوتی ہے۔
تعداد جس قدر زیادہ ہوگی۔
برکت اور فائدہ زیادہ ہوگا۔
مسلمانوں کو بارہ ہزار کی تعداد اگر کہیں شکست کھائے گی۔
تواس کا سبب قلت تعداد نہیں بلکہ کوئی اور سبب ہوگا۔
مثلا عدم تقویٰ۔
تکبر۔
غرور اور بذدلی وغیرہ تاہم یہ روایت مرسل ہے جو محدثین کے نزدیک ضعیف ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2611 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1555 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سرایا کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سب سے بہترین ساتھی وہ ہیں جن کی تعداد چار ہو، اور سب سے بہتر سریہ وہ ہے جس کی تعداد چار سو ہو، اور سب سے بہتر فوج وہ ہے جس کی تعداد چار ہزار ہو اور بارہ ہزار اسلامی فوج قلت تعداد کے باعث مغلوب نہیں ہو گی۔“ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1555]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” سب سے بہترین ساتھی وہ ہیں جن کی تعداد چار ہو، اور سب سے بہتر سریہ وہ ہے جس کی تعداد چار سو ہو، اور سب سے بہتر فوج وہ ہے جس کی تعداد چار ہزار ہو اور بارہ ہزار اسلامی فوج قلت تعداد کے باعث مغلوب نہیں ہو گی۔“ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1555]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
سرایا جمع ہے سریہ کی، سریہ اس جنگ کو کہتے ہیں جس میں رسول اللہ ﷺ ذاتی طورپر شریک نہ رہے ہوں، یہ بڑے لشکر کا ایک حصہ ہوتا ہے جس میں زیادہ سے زیادہ چارسو فوجی ہوتے ہیں۔
نوٹ:
(اس حدیث کا ’’عن الزہري عن النبيﷺ‘‘ مرسل ہونا ہی صحیح ہے، نیز یہ آیت ربانی ﴿وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا فَإِن يَكُن مِّنكُم مِّئَةٌ صَابِرَةٌ يَغْلِبُواْ مِئَتَيْنِ﴾ (الأنفال: 66) کے بھی مخالف ہے، دیکھئے: الصحیحة رقم: 986، تراجع الألبانی: 152)
وضاحت:
1؎:
سرایا جمع ہے سریہ کی، سریہ اس جنگ کو کہتے ہیں جس میں رسول اللہ ﷺ ذاتی طورپر شریک نہ رہے ہوں، یہ بڑے لشکر کا ایک حصہ ہوتا ہے جس میں زیادہ سے زیادہ چارسو فوجی ہوتے ہیں۔
نوٹ:
(اس حدیث کا ’’عن الزہري عن النبيﷺ‘‘ مرسل ہونا ہی صحیح ہے، نیز یہ آیت ربانی ﴿وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا فَإِن يَكُن مِّنكُم مِّئَةٌ صَابِرَةٌ يَغْلِبُواْ مِئَتَيْنِ﴾ (الأنفال: 66) کے بھی مخالف ہے، دیکھئے: الصحیحة رقم: 986، تراجع الألبانی: 152)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1555 سے ماخوذ ہے۔