سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي الْقَوْمِ يُسَافِرُونَ يُؤَمِّرُونَ أَحَدَهُمْ باب: ساتھ سفر کرنے والے کسی کو اپنا امیر بنا لیں۔
حدیث نمبر: 2609
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا كَانَ ثَلَاثَةٌ فِي سَفَرٍ فَلْيُؤَمِّرُوا أَحَدَهُمْ " ، قَالَ نَافِعٌ : فَقُلْنَا لِأَبِي سَلَمَةَ : فَأَنْتَ أَمِيرُنَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تین افراد کسی سفر میں ہوں تو ان میں سے کسی کو امیر بنا لیں ۱؎ “ ، نافع کہتے ہیں : تو ہم نے ابوسلمہ سے کہا : آپ ہمارے امیر ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم اس لئے دیا تا کہ ان میں آپس میں اجتماعیت برقرار رہے اور اختلاف کی نوبت نہ آئے اور ایسا جبھی ممکن ہے جب وہ کسی امیر کے تابع ہوں گے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ساتھ سفر کرنے والے کسی کو اپنا امیر بنا لیں۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تین افراد کسی سفر میں ہوں تو ان میں سے کسی کو امیر بنا لیں ۱؎ “، نافع کہتے ہیں: تو ہم نے ابوسلمہ سے کہا: آپ ہمارے امیر ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2609]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تین افراد کسی سفر میں ہوں تو ان میں سے کسی کو امیر بنا لیں ۱؎ “، نافع کہتے ہیں: تو ہم نے ابوسلمہ سے کہا: آپ ہمارے امیر ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2609]
فوائد ومسائل:
1۔
اس نظم سے امور سفر مرتب اور آسان ہو جاتے ہیں۔
اور سب کو سہولت رہتی ہے۔
نفسی نفسی کا عالم نہیں ہوتا۔
نیز جب اس معمولی اجتماع میں امیر مقرر کرنے کی تاکید ہے۔
تو امارت عظمیٰ کی اہمیت اور بھی زیادہ ہوئی۔
2۔
قوم کو کسی بھی وقت امیر اور امارت کے بغیر نہیں رہنا چاہیے۔
1۔
اس نظم سے امور سفر مرتب اور آسان ہو جاتے ہیں۔
اور سب کو سہولت رہتی ہے۔
نفسی نفسی کا عالم نہیں ہوتا۔
نیز جب اس معمولی اجتماع میں امیر مقرر کرنے کی تاکید ہے۔
تو امارت عظمیٰ کی اہمیت اور بھی زیادہ ہوئی۔
2۔
قوم کو کسی بھی وقت امیر اور امارت کے بغیر نہیں رہنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2609 سے ماخوذ ہے۔