حدیث نمبر: 2608
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرِ بْنِ بَرِّيٍّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا خَرَجَ ثَلَاثَةٌ فِي سَفَرٍ فَلْيُؤَمِّرُوا أَحَدَهُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تین افراد کسی سفر میں ہوں تو ہوئے کہ اپنے میں سے کسی ایک کو امیر بنا لیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2608
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن عجلان عنعن, وانظر الحديث الآتي (2609), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 95
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4429) (حسن صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 783 | سنن نسائي: 841 | صحيح مسلم: 672

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 841 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جب تین آدمی ہوں تو باجماعت نماز پڑھنے کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تین آدمی ہوں تو ان میں سے ایک ان کی امامت کرے، اور امامت کا زیادہ حقدار ان میں وہ ہے جسے قرآن زیادہ یاد ہو۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 841]
841۔ اردو حاشیہ: تفصیل کے لیے دیکھیے سنن نسائی حدیث: 781، 800 اور ان کے فوائد و مسائل۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 841 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 672 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تین نمازی ہوں تو ان میں سے ایک امام بنے اور ان میں امامت کا حقدار وہ ہے جو قرآن مجید کی خوب تلاوت کرتا ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1529]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ امامت کا حقدار وہ انسان ہے جسے قرآن مجید کے ساتھ خاص شغف و تعلق ہو اور وہ اس کی کثرت کے ساتھ تلاوت کرتا ہو لیکن اس میں اختلاف ہے کہ کیا قرآءت سے مراد محض حفظ قرآن اور اس کی کثرت کے ساتھ تلاوت ہے یا اس سےمراد حفظ قرآن کے ساتھ اس کا علم و فہم بھی ہے امام احمد کے نزدیک محض قاری مقدم ہے اور باقی آئمہ کے نزدیک قرآن کا علم و فہم رکھنے والا مقدم ہے اگر قاری عالم بھی ہو تو اس کے مقدم ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 672 سے ماخوذ ہے۔