حدیث نمبر: 2606
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ حَدِيدٍ ، عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا " ، وَكَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً أَوْ جَيْشًا بَعَثَهُمْ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ ، وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا وَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ فَأَثْرَى وَكَثُرَ مَالُهُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهُوَ صَخْرُ بْنُ وَدَاعَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´صخر غامدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «اللهم بارك لأمتي في بكورها» ” اے اللہ ! میری امت کے لیے دن کے ابتدائی حصہ میں برکت دے “ اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی سریہ یا لشکر بھیجتے ، تو دن کے ابتدائی حصہ میں بھیجتے ۔ ( عمارہ کہتے ہیں ) صخر ایک تاجر آدمی تھے ، وہ اپنی تجارت صبح سویرے شروع کرتے تھے تو وہ مالدار ہو گئے اور ان کا مال بہت ہو گیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : صخر سے مراد صخر بن وداعہ ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2606
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (3908), أخرجه الترمذي (1212 وسنده حسن) وابن ماجه (2236 وسنده حسن) عمارة بن حديد حسن الحديث علي الراجح وثقه العجلي وابن خزيمة وغيرھما
تخریج حدیث « سنن الترمذی/البیوع 6 (1212)، سنن ابن ماجہ/ التجارات 41 (2236)، (تحفة الأشراف: 4852)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/416، 417، 432، 4/384،390، 391)، دی/ السیر 1(2479) (صحیح) » ( حدیث کا پہلا ٹکڑا «اللهم بارك لأمتي في بكورها» شواہد کی وجہ سے صحیح ہے اور سند میں عمارہ بن حدید کی توثیق ابن حبان نے کی ہے جو مجاہیل کی توثیق کرتے ہیں، اور ابن حجر نے مجہول کہا ہے حدیث کے دوسرے ٹکڑے کو البانی صاحب نے ’’الضعیفہ ( 4178) ‘‘ میں شاہد نہ ملنے کی وجہ سے ضعیف کہا ہے جب کہ سنن ابی داود میں پوری حدیث کو صحیح کہا ہے لیکن سنن ابن ماجہ میں تفصیل بیان کردی ہے، نیز اس حدیث کو امام ترمذی نے حسن کہا ہے)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1212 | سنن ابن ماجه: 2236 | معجم صغير للطبراني: 526

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1212 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سامان تجارت لے کر سویرے نکلنے کا بیان۔`
صخر غامدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کو اس کے دن کے ابتدائی حصہ میں برکت دے ۱؎ صخر کہتے ہیں کہ آپ جب کسی سریہ یا لشکر کو روانہ کرتے تو اسے دن کے ابتدائی حصہ میں روانہ کرتے۔ اور صخر ایک تاجر آدمی تھے۔ جب وہ تجارت کا سامان لے کر (اپنے آدمیوں کو) روانہ کرتے تو انہیں دن کے ابتدائی حصہ میں روانہ کرتے۔ تو وہ مالدار ہو گئے اور ان کی دولت بڑھ گئی۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1212]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سفرتجارت ہو یا اورکوئی کام ہو ان کا آغاز دن کے پہلے پہرسے کرنا زیادہ مفیداوربابرکت ہے، اس وقت انسان تازہ دم ہوتا ہے اورقوت عمل وافرہوتی ہے جو ترقی اوربرکت کا باعث بنتی ہے۔

نوٹ:
(متابعات وشواہد کی بناپر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’عمارہ بن جدید‘‘ مجہول ہیں، اور ان کے مذکورہ ’’ضعیف‘‘جملے کا کوئی متابع وشاہد نہیں ہے، تراجع الالبانی 277، وصحیح ابی داود ط۔
غراس 2345)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1212 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2236 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´صبح کے وقت میں برکت متوقع ہونے کا بیان۔`
صخر غامدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کے لیے صبح کے وقت میں برکت عطا فرما اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی سریہ یا لشکر روانہ کرنا ہوتا تو اسے دن کے ابتدائی حصہ ہی میں روانہ فرماتے ۱؎۔ راوی کہتے ہیں: غامدی صخر تاجر تھے، وہ اپنا مال تجارت صبح سویرے ہی بھیجتے تھے بالآخر وہ مالدار ہو گئے، اور ان کی دولت بڑھ گئی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2236]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
صبح کا وقت بابرکت ہے، لہٰذا اسے مفید کاموں میں صرف کرنا چاہیے، غفلت اور نیند میں ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

(2)
صبح جلدی دکان کھولنا تاجر کے لیے باعث برکت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2236 سے ماخوذ ہے۔