حدیث نمبر: 2605
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَلَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ فِي سَفَرٍ إِلَّا يَوْمَ الْخَمِيسِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` بہت کم ایسا ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعرات کے علاوہ کسی اور دن سفر میں نکلیں ( یعنی آپ اکثر جمعرات ہی کو نکلتے تھے ) ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2605
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2948)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الجھاد 103 (2950)، (تحفة الأشراف: 11147)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/454، 455، 6/386، 387، 390) (صحیح) » (اس حدیث کو امام ترمذی نے حسن کہا ہے)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2949

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´کس دن سفر کرنا مستحب ہے؟`
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بہت کم ایسا ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعرات کے علاوہ کسی اور دن سفر میں نکلیں (یعنی آپ اکثر جمعرات ہی کو نکلتے تھے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2605]
فوائد ومسائل:
دن سب اللہ کے ہیں، مگر جمعرات کو اہمیت حاصل ہے کہ اس روز اللہ کے حضور اعمال پیش ہوتے ہیں۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2605 سے ماخوذ ہے۔