حدیث نمبر: 2603
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ ، حَدَّثَنِي شُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ فَأَقْبَلَ اللَّيْلُ قَالَ : " يَا أَرْضُ رَبِّي وَرَبُّكِ اللَّهُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّكِ وَشَرِّ مَا فِيكِ وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِيكِ وَمِنْ شَرِّ مَا يَدِبُّ عَلَيْكِ ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ أَسَدٍ وَأَسْوَدَ وَمِنَ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ وَمِنْ سَاكِنِ الْبَلَدِ وَمِنْ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے اور رات ہو جاتی تو فرماتے : «يا أرض ربي وربك الله أعوذ بالله من شرك وشر ما فيك وشر ما خلق فيك ومن شر ما يدب عليك وأعوذ بالله من أسد وأسود ومن الحية والعقرب ومن ساكن البلد ومن والد وما ولد» ” اے زمین ! میرا اور تیرا رب اللہ ہے ، میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تیرے شر سے اور اس چیز کے شر سے جو تجھ میں ہے اور اس چیز کے شر سے جو تجھ میں پیدا کی گئی ہے اور اس چیز کے شر سے جو تجھ پر چلتی ہے اور اللہ کی پناہ چاہتا ہوں شیر اور کالے ناگ سے اور سانپ اور بچھو سے اور زمین پر رہنے والے ( انسانوں اور جنوں ) کے شر سے اور جننے والے کے شر اور جس چیز کو جسے اس نے جنا ہے اس کے شر سے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2603
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (2439), صححه ابن خزيمة (2572 وسنده حسن) الزبير بن الوليد صدوق حسن الحديث وثقه ابن خزيمة والحاكم وغيرھما
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 6720)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/132، 3/124) (ضعیف) » (اس کے راوی زبیر بن ولید لین الحدیث ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جب آدمی منزل پر پڑاؤ ڈالے تو کیا دعا پڑھے؟`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے اور رات ہو جاتی تو فرماتے: «يا أرض ربي وربك الله أعوذ بالله من شرك وشر ما فيك وشر ما خلق فيك ومن شر ما يدب عليك وأعوذ بالله من أسد وأسود ومن الحية والعقرب ومن ساكن البلد ومن والد وما ولد» اے زمین! میرا اور تیرا رب اللہ ہے، میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تیرے شر سے اور اس چیز کے شر سے جو تجھ میں ہے اور اس چیز کے شر سے جو تجھ میں پیدا کی گئی ہے اور اس چیز کے شر سے جو تجھ پر چلتی ہے اور اللہ کی پناہ چاہتا ہوں شیر اور کالے ناگ سے اور سانپ اور بچھو سے اور زمین پر رہنے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2603]
فوائد ومسائل:
اس علاقے کے رہنے والوں سے مراد جن ہیں۔
اور کہا جاتا ہے کہ جننے والے سے مراد شیطان اور اس کی اولاد ہے۔
مگر الفاظ اپنے عموم سے ہر جننے والے اورجنے گئے کو شامل ہیں۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2603 سے ماخوذ ہے۔