حدیث نمبر: 2601
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاق السَّيْلَحِينِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْخَطْمِيِّ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْتَوْدِعَ الْجَيْشَ ، قَالَ : " أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكُمْ وَأَمَانَتَكُمْ وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ خطمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب لشکر کو رخصت کرنے کا ارادہ کرتے تو فرماتے : «أستودع الله دينكم وأمانتكم وخواتيم أعمالكم» ” میں تمہارے دین ، تمہاری امانت اور تمہارے انجام کار کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2601
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (2436)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9673)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الیوم واللیلة (507) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´الوداع (رخصت) کرتے وقت کی دعا کا بیان۔`
عبداللہ خطمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب لشکر کو رخصت کرنے کا ارادہ کرتے تو فرماتے: «أستودع الله دينكم وأمانتكم وخواتيم أعمالكم» میں تمہارے دین، تمہاری امانت اور تمہارے انجام کار کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2601]
فوائد ومسائل:
قابل توجہ مسئلہ ہے کہ رسول اللہ ﷺنے انسان کےلئے سب سے قیمتی سرمایہ اس کے دین کو قرار دیا ہے۔
اور اسی طرح ان اعمال کو بھی (بالخصوص اختتامی اعمال کو) جن کے ساتھ وہ اپنے اللہ سے ملنے والاہے۔


حدیث میں ہے۔
(إِنَّ اللهَ إذا استودع شيئا حفظه) (الصحیحة، حدیث: 2547) جب کسی چیز کو اللہ کے سپرد کردیا جاتا ہے۔
تو اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرماتا ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2601 سے ماخوذ ہے۔