حدیث نمبر: 2600
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ : هَلُمَّ أُوَدِّعْكَ كَمَا وَدَّعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´قزعہ کہتے ہیں کہ` مجھ سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : آؤ میں تمہیں اسی طرح رخصت کروں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رخصت کیا تھا : «أستودع الله دينك وأمانتك وخواتيم عملك» ” میں تمہارے دین ، تمہاری امانت اور تمہارے انجام کار کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2600
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (2435), وله شواھد عند الترمذي (3443 وسنده حسن) وابن حبان (الإحسان: 2682 وسنده حسن)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7378)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 44 (3443)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 24 (2826)، مسند احمد (2/7، 25، 38، 136) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3442 | سنن ترمذي: 3443 | سنن ابن ماجه: 2826

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3442 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´کسی انسان کو الوداع (رخصت کرتے) وقت کیا پڑھے؟`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو رخصت کرتے تو اس کا ہاتھ پکڑتے ۱؎ اور اس کا ہاتھ اس وقت تک نہ چھوڑتے جب تک کہ وہ شخص خود ہی آپ کا ہاتھ نہ چھوڑ دیتا اور آپ کہتے: «استودع الله دينك وأمانتك وآخر عملك» میں تیرا دین، تیری امانت، ایمان اور تیری زندگی کا آخری عمل (سب) اللہ کی سپردگی و حوالگی میں دیتا ہوں۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3442]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس سے رخصت کے وقت بھی مصافحہ ثابت ہوتا ہے، معلوم نہیں لوگوں نے کہاں سے مشہورکر رکھا ہے کہ رخصت کے وقت مصافحہ ثابت نہیں۔

2؎:
میں تیرا دین، تیری امانت، ایمان اور تیری زندگی کا آخری عمل (سب) اللہ کی سپردگی و حوالگی میں دیتا ہوں۔

نوٹ:
(سند میں ابراہیم بن عبد الرحمن بن یزید مجہول راوی ہیں، لیکن شواہد ومتابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة رقم: 14، 16، 2485)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3442 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2826 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´غازیوں کو الوداع کہنے (رخصت کرنے) کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر روانہ فرماتے تو جانے والے کے لیے اس طرح دعا کرتے، «أستودع الله دينك وأمانتك وخواتيم عملك» میں تیرے دین، تیری امانت، اور تیرے آخری اعمال کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2826]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہے جبکہ محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور اس پر تفصیلی بحث کی ہے۔
محققین کی تفصیلی بحث سے تصحیح حدیث والی رائے ہی أقرب إلے الصواب معلوم ہوتی ہے لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بناء پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثيه مسند الإمام أحمد: 121، 119/8)
والصحيحة للألباني رقم: 16 وسنن ابن ماجة بتحقيق الدكور بشار عواد رقم: 2826)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2826 سے ماخوذ ہے۔