حدیث نمبر: 2596
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ ، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ زَمَنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ شِعَارُنَا أَمِتْ أَمِتْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غزوہ کیا تو ہمارا شعار «أمت أمت» ۱؎ تھا ۔

وضاحت:
۱؎: اے مدد کرنے والے دشمن کو فنا کر۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2596
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه ابن ماجه (2840 وسنده حسن) عكرمة صرح بالسماع عند ابن حبان (الإحسان: 4828)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/ الجہاد 30 (2840)، (تحفة الأشراف: 4516)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/46)، سنن الدارمی/السیر 15(2495)، ویأتی ہذا الحدیث برقم (2638) (حسن صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2638

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2638 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´شب خون (رات میں چھاپہ) مارنے کا بیان۔`
سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر بنا کر بھیجا، ہم نے مشرکین کے کچھ لوگوں سے جہاد کیا تو ہم نے ان پر شب خون مارا، ہم انہیں قتل کر رہے تھے، اور اس رات ہمارا شعار (کوڈ) «أمت أمت» ۱؎ تھا، اس رات میں نے اپنے ہاتھ سے سات گھروں کے مشرکوں کو قتل کیا ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2638]
فوائد ومسائل:
حسب ضرورت ومصلحت شب خون مارنے میں کوئی عیب نہیں۔
اور نہ اسے معروف معنی میں دھوکا یا بزدلی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2638 سے ماخوذ ہے۔