حدیث نمبر: 2595
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ الْحَجَّاجِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : كَانَ شِعَارُ الْمُهَاجِرِينَ عَبْدَ اللَّهِ ، وَشِعَارُ الأَنْصَارِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مہاجرین کا شعار ( کوڈ ) ۱؎ ” عبداللہ “ اور انصار کا شعار ” عبدالرحمٰن “ تھا ۔

وضاحت:
۱؎: وہ خاص لفظ جس سے پہرے دار یا فوجی کو آپس میں ایک دوسرے کی شناخت کے لئے بتا دیا جاتا ہے کہ دوران جنگ اسے دھوکہ نہ دیا جا سکے، اسے ’’پردل‘‘ کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2595
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, حجاج بن أرطاة ضعيف،مدلس, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 95
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4601) (حسن بصری مدلس ہیں اور روایت ’’عنعنہ ‘‘ سے ہے ) (ضعیف) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´شعار (کوڈ) کو پکار کر کہنے کا بیان۔`
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مہاجرین کا شعار (کوڈ) ۱؎ عبداللہ اور انصار کا شعار عبدالرحمٰن تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2595]
فوائد ومسائل:
اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اندھیرے میں یا ذاتی تعارف نہ ہونے کی صورت میں اپنے افراد کو پہچاننے میں غلطی نہیں ہوتی۔
اگر کوئی جاسوس وغیرہ در آئے تو اس کو پکڑنا بھی آسان رہتا ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2595 سے ماخوذ ہے۔