حدیث نمبر: 2594
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " ابْغُونِي الضُّعَفَاءَ فَإِنَّمَا تُرْزَقُونَ وَتُنْصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : زَيْدُ بْنُ أَرْطَاةَ أَخُو عَدِيِّ بْنِ أَرْطَاةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” میرے لیے ضعیف اور کمزور لوگوں کو ڈھونڈو ، کیونکہ تم اپنے کمزوروں کی وجہ سے رزق دیئے جاتے اور مدد کئے جاتے ہو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2594
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, أخرجه الترمذي (1702 وسنده صحيح) ورواه النسائي (3181 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الجھاد 24 (1702)، سنن النسائی/الجھاد 43 (3181)، (تحفة الأشراف: 10923)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/198) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 3181 | سنن ترمذي: 1702

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ضعیف اور بے کس لوگوں کے واسطہ سے مدد مانگنے کا بیان۔`
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میرے لیے ضعیف اور کمزور لوگوں کو ڈھونڈو، کیونکہ تم اپنے کمزوروں کی وجہ سے رزق دیئے جاتے اور مدد کئے جاتے ہو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2594]
فوائد ومسائل:
ضعیف و بے کس اور نادارافراد اور دیگر مخلوق کی عبادت اور دعا میں اخلاص ہوتا ہے۔
وہ ریاکاری سے بالعموم بری ہوتے ہیں۔
تو ان کی عبادت دعا اور بے کسی کی برکت سے اللہ عزو جل دوسروں پر بھی رحم فرما دیتا ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2594 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3181 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کمزور آدمی سے مدد چاہنے کا بیان۔`
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: میرے لیے کمزور کو ڈھونڈو، کیونکہ تمہیں تمہارے کمزوروں کی دعاؤں کی وجہ سے روزی ملتی ہے، اور تمہاری مدد کی جاتی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3181]
اردو حاشہ: اللہ تعالیٰ ان ضعفاء کو رزق دیناچاتا ہے اور ان کا بھلاکرنا چاہتاہے مگر چونکہ وہ تمہارے محتا ج ہیں‘ لہٰذا اللہ تعالیٰ انہیں رزق پہنچانے کے لیے تمہیں بھی رزق دے دیتا ہے اور ان کے بھلے کے لیے تمہاری مدد بھی کرتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3181 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1702 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´غریب اور مسکین مسلمانوں کی دعا کے ذریعہ مدد طلب کرنے کا بیان۔`
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مجھے اپنے ضعیفوں اور کمزوروں میں تلاش کرو، اس لیے کہ تم اپنے ضعیفوں اور کمزوروں کی (دعاؤں کی برکت کی) وجہ سے رزق دیئے جاتے ہو اور تمہاری مدد کی جاتی ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجهاد/حدیث: 1702]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں مالدار لوگوں کے لیے نصیحت ہے کہ وہ اپنے سے کمتر درجے کے لوگوں کو حقیر نہ سمجھیں، کیوں کہ انہیں دنیاوی اعتبار سے جو آسانیاں حاصل ہیں یہ کمزوروں کے باعث ہی ہیں، یہ بھی معلوم ہواکہ ان کمزور مسلمانوں کی دعائیں بہت کام آتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول نے ان کمزور مسلمانوں کی دعا سے مدد طلب کرنے کو کہا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1702 سے ماخوذ ہے۔