حدیث نمبر: 2593
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ الشَّعِيرِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ ، عَنْ آخَرَ مِنْهُمْ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَايَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفْرَاءَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سماک اپنی قوم کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں اور اس نے انہیں میں سے ایک دوسرے شخص سے روایت کیا ، وہ کہتے ہیں` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پرچم زرد دیکھا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2593
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ’’رجل من قومه ‘‘ : مجهول (انظر عون المعبود 337/2), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 95
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15703) (ضعیف) » (اس کی سند میں دو مبہم راوی ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جنگ میں جھنڈے اور پرچم لہرانے کا بیان۔`
سماک اپنی قوم کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں اور اس نے انہیں میں سے ایک دوسرے شخص سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پرچم زرد دیکھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2593]
فوائد ومسائل:

جہاد میں جھنڈے کا اہتمام کرنا مستحب ہے۔


قرون اولیٰ میں جھندوں کا کوئی رنگ اورسائز مخصوص نہ ہوتا تھا۔
اور یہ زرد رنگ والی روایت ضعیف ہے۔


جنگ میں اور دیگر اہم مواقع پر جھنڈے کو بلند اور نمایاں رکھنا بلاشبہ مطلوب ہے۔
مگر یہ سب ایک نظم کے لئے ہوتا ہے۔
اسے تقدس اوراحترام کا ایسا مفہوم دینا جو آجکل عام کردیا گیا ہے۔
غیر شرعی ہے، بلکہ شرک کی حدود کو چھوتا ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2593 سے ماخوذ ہے۔